صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 714
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۱۴ ۷۹ کتاب الاستئذان باب ۳۹: الْقَائِلَةُ بَعْدَ الْجُمُعَةِ جمعہ کے بعد قیلولہ کرنا ٦٢٧٩: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا ۶۲۷۹: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو حازم سے، سَعْدٍ قَالَ كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جمعہ کے بعد ہی ہم قیلولہ کیا کرتے الْجُمُعَةِ۔تھے اور دن کا کھانا کھایا کرتے تھے۔أطرافه: ۹۳۸، ۹۳۹، ۹۶۱، ٢٣٤۹، ٥٤٠٣، ٦٢٤٨ - بَاب ٤٠ : الْقَائِلَةُ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں قیلولہ کرنا ٦٢٨٠: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۶۲۸۰: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عبد العزيز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ مَا ابو حازم سے، ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد كَانَ لِعَلِي اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي ( ساعدی) سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ حضرت علی کو ابو تراب سے بڑھ کر پیارا نام اور کوئی نہ تھا۔تُرَابٍ وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ بِهِ إِذَا دُعِيَ بِهَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وہ اس نام سے تو بہت ہی خوش ہوا کرتے تھے۔اگر اس سے ان کو پکارا جاتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بَيْتَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامِ فَلَمْ يَجِدْ حضرت فاطمہ علیہ السلام کے گھر میں آئے اور آپ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ نے گھر میں حضرت علی کونہ پایا۔آپ نے پوچھا: فَقَالَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ تمہارے چا کا بیٹا کہاں ہے ؟ تو وہ کہنے لگیں: میرے فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي اور ان کے درمیان کوئی جھگڑا ہوا تھا تو وہ مجھ سے فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ناراض ہو کر باہر چلے گئے اور میرے پاس قیلولہ بھی لإِنْسَانِ انْظُرْ أَيْنَ هُوَ فَجَاءَ فَقَالَ نہیں کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی آدمی