صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 713
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۱۳ ۷۹ - كتاب الاستئذان حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُّغِيرَةَ عَنْ ( بن ہارون) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے، إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ قَدِمَ الشَّأْمَ۔شعبہ نے مغیرہ (بن مقسم) سے ، مغیرہ نے ابراہیم حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ (بھی) سے، ابراہیم نے علقمہ (بن قیس) سے (شخصی) مُّغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ ذَهَبَ عَلْقَمَهُ روایت کی کہ وہ شام میں آگئے اور ابوالولید نے بھی إِلَى الشَّامِ فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّی ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مغیرہ سے، مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی۔انہوں رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا نے کہا: علقمہ شام کو گئے اور مسجد میں جاکر دور کعتیں نماز پڑھی اور یہ دعا کی: اے اللہ ! مجھے کوئی ہمنشین فَقَعَدَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ أَلَيْسَ عطا کیجیو اور پھر جا کر حضرت ابو درداء کے پاس بیٹھ فِيكُمْ صَاحِبُ السّرِ الَّذِي كَانَ لَا گئے تو انہوں نے پوچھا: تم کن لوگوں سے ہو؟ انہوں يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ يَعْنِي حُذَيْفَةَ أَلَيْسَ فِيكُمْ نے کہا: میں کوفہ کے باشندوں میں سے ہوں۔انہوں أَوْ كَانَ فِيكُمْ الَّذِي أَجَارَهُ اللهُ عَلَی نے کہا: کیا تم میں اس راز کے وہ محرم نہیں جس کو لِسَانِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ان کے سوا اور کوئی نہ جانتا تھا۔اس سے ان کی مراد مِنَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي عَمَّارًا أَوَلَيْسَ فِيكُمْ حضرت حذیفہ سے تھی۔کیا وہ شخص تم میں نہیں جس صَاحِبُ السّوَاكِ وَالْوِسَادِ يَعْنِي ابْنَ کو اللہ نے اپنے رسول صلی الی یکم کی زبان سے ، شیطان مَسْعُودٍ كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ وَالَّيْلِ ہے اپنی پناہ میں رکھا تھا یعنی حضرت عمار یا تم میں ، وہ شخص نہیں جو مسواک اور گدالئے رہتے تھے یعنی إذَا يَغْشَى (اليل: ٢) قَالَ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى حضرت ابن مسعودؓ۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ) فَقَالَ مَا زَالَ هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا وَالَّيْلِ اذا یغشی کوکس طرح پڑھا کرتے تھے؟ علقمہ يُشَكِّكُونِي وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ نے کہا: یوں پڑھا کرتے تھے: وَالذَّكَرِ وَالأُ نھی۔حضرت ابو درداء کہنے لگے: یہ لوگ میرے پیچھے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔پڑے رہے یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ مجھے شک میں ڈال دیتے حالانکہ میں نے بھی رسول اللہ صلی للی سیم سے یہی سنا تھا۔أطرافه: ۳۲۸۷، ٣٧٤۲، ٣٧٤، ٣٧٦١، ٤٩٤، ٤٩٤٤۔