صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 710
صحیح البخاری جلد ۱۴ 41۔۷۹ - كتاب الاستئذان نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ باپ نے نافع سے ، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے رسول بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ مُحْتَبِيًا بِيَدِهِ هَكَذَا۔اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کے صحن میں اپنے ہاتھ سے اس طرح گوٹھ مارے ہوئے بیٹھے دیکھا۔بَاب ٣٥ : مَنِ اتَّكَأَ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ جو اپنے ساتھیوں کے سامنے تکیہ لگا کر بیٹھے وَقَالَ حَبَّابٌ أَتَيْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت خباب (بن ارث) نے کہا: میں نبی صلی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُوَسَدٌ بُرْدَةً فَقُلْتُ الله علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔میں نے کہا: کیا آپ اللہ أَلَا تَدْعُو اللَّهَ فَقَعَدَ۔سے دعا نہیں کریں گے ؟ آپ یہ سنتے ہی بیٹھ گئے۔٦٢٧٣: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ ۶۲۷۳: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ اللَّهِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّل حَدَّثَنَا بشرين مفضل نے ہمیں بتایا کہ (سعید بن ایاس) الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي تُریری نے ہم سے بیان کیا۔مجریری نے عبد الرحمن بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ بن ابی بکرہ سے، عبد الرحمن نے اپنے باپ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ سلم نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ گناہ نہ بتاؤں جو بڑے بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ سے بڑے ہیں ؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں یا رسول قَالَ الْإِشْرَالُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الله ضرور بتلائیں۔آپ نے فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہر انا اور والدین کی نافرمانی۔أطرافه: ٢٦٥٤، ٥٩٧٦، ٦٢٧٤، ٦٩١٩۔٦٢٧٤: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرٌ :۶۲۷۴ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بشر (بن مِثْلَهُ وَكَانَ مُتَّكِنًا فَجَلَسَ فَقَالَ أَلَا مفضل) نے بھی ایسا ہی بتایا اور آپ اس وقت تک وَقَوْلُ النُّورِ فَمَا زَالَ يُكَرَرُهَا حَتَّى تکیہ لگائے ہوئے تھے اور آپ بیٹھ گئے اور فرمایا: قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ۔سنو اور جھوٹ بولنا بھی۔آپ اس کو دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا: کاش آپ چپ ہو جائیں۔أطرافه: ٢٦٥٤، ٥٩٧٦، ٦٢٧٣، ٦٩١٩۔