صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 709
صحیح البخاری جلد ۱۴ عظيما (الاحزاب: ٥٤)۔2+9 ۷۹ - كتاب الاستئذان امَنُوا لَا تَدخُلُوا یعنی اے مومنو! نبی کے گھروں میں سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لئے بلایا جائے ہر گز داخل نہ ہوا کرو، وہ بھی اس شرط سے کہ کھانا پکنے کے انتظار میں نہ بیٹھے رہا کرو اور نہ باتیں کرنے کے شوق میں بیٹھے رہا کرو۔ہاں ! جب تم کو بلایا جائے تو پھر ضرور چلے جایا کرو، پھر جب کھانا کھا چکو تو اپنے اپنے گھروں کو چلے جایا کرو۔یہ امر (یعنی بے فائدہ بیٹھے رہنا یا پہلے آجانا) نبی کو تکلیف دیتا تھا مگر وہ (تمہارے جذبات کا خیال کر کے ) تم کو منع کرنے سے حیا کرتا تھا۔مگر اللہ سچی بات بیان کرنے سے (لوگوں کے خیالات کی وجہ سے) باز نہیں رہتا اور ( چاہیے کہ) جب تم اُن (یعنی نبی کی بیویوں) سے کوئی گھر کی چیز مانگو تو پردہ کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ بات تمہارے دلوں اور اُن کے دلوں کے لئے بہت اچھی ہے اور اللہ کے رسول کو تکلیف دینا تمہارے لئے جائز نہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ تم اس کے بعد اس کی بیویوں سے کبھی بھی شادی کرو۔یہ بات اللہ کے فیصلہ کے مطابق بہت بُری ہے۔أطرافه ٤٧٩١ ٤٧٩٢ ، ٤٧٩٣، ٤٧٩٤، 5154، 5163، ۵۱۶۶، ۵۱۶۸، ۵۱۷۰، -٦٢، ٧٤٢١۳۹ ،٥، ٥٤٦٦، ٦٢٣٨۱۷۱ باب ٣٤ : الِاحْتِبَاءُ بِالْيَدِ وَهُوَ الْقُرْقُصَاءُ ہاتھوں سے گوٹھ مار کر بیٹھنا اور یہی ہے جسے قرفصاء کہتے ہیں ٦٢٧٢: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ :۶۲۷۲ محمد بن ابی غالب نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ابراہیم بن منذر حزامی نے ہمیں بتایا کہ محمد بن فلح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَلَيْحِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نے ہم سے بیان کیا۔محمد نے اپنے باپ سے، ان کے