صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 707
صحیح البخاری جلد ۱۴ 2+2 ۷۹ - كتاب الاستئذان اس سے وسعت قلبی بھی پیدا ہوتی ہے اور ایک مومن کی یہی شان ہے کہ اپنے دل کو وسیع کرے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین مجالس وہ ہیں جو کشادہ ہوں۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ہر فعل اور آپ کا ہر خلق قرآن کریم کے مطابق تھا تو یہ بھی تَفَسَّحُوا فِی الْمَجْلِس کی ہی تشریح ہے کیونکہ اگر یہ کشادگی پیدا ہو گی اور خوش دلی سے جگہ کو کشادہ کرو گے تو آپس میں محبت اور اخوت بھی بڑھے گی اور اس وجہ سے شیطان تمہارے اندر رنجشیں پیدا نہیں کر سکے گا بلکہ تم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہو گے۔“ نیز فرمایا: (خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۱۶ ، جولائی ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۴۹۶ مجلس میں جگہ دینے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر خیال فرماتے تھے۔اس کا اظہار ایک روایت سے ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص حاضر ہوا، حضور علیہ السلام اسے جگہ دینے کے لئے اپنی جگہ سے کچھ ہٹ گئے ، وہ شخص کہنے لگا: حضور جگہ بہت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں تکلیف فرماتے ہیں۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کا حق ہے کہ اس کے لئے اس کا بھائی سمٹ کر بیٹھے اور اسے جگہ دے۔کے تو دیکھیں جب ہمارے آقا و مطاع اپنے عمل سے یہ دکھا رہے ہیں تو ہمیں کس قدر ان باتوں پر عمل کرنا چاہیے بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مجلس میں آجائے تو بعض لوگ اور زیادہ چوڑے ہو کے اور پھیل کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہمارے بیٹھنے میں تنگی نہ ہو۔“ خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۱۶، جولائی ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۴۹۸ ' (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فى سعة المجلس) (شعب الإيمان للبييقى، ٦١ - مقاربة اهل الدین و مواد تهم ، فصل فی قیام المرء لصاحبه على وجه الإكرام، روایت نمبر ۸۵۳۴)