صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 706
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۹ - كتاب الاستئذان نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اپنے رحم اور اپنے فضل سے تمہارے لئے حقیقی وسعتیں پیدا کرتا چلا جائے گا۔اس آیہ کریمہ میں جس وسعت کا ذکر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجلس پہلے 20×20 فٹ کے امیر یا اور جگہ میں ہو رہی تھی اب وہ 50×50 فٹ کے ایریا میں ہوتی ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پہلے 20 × 20 فٹ کے ایریا میں 20 آدمی بیٹھے ہوئے تھے تو اب اس قدر جگہ میں اس حکم کی تعمیل کے نتیجہ میں مثلاً تیس یا چالیس آدمی بیٹھ گئے پس تفسحوا کھل جاؤ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تنگ ہو کر بیٹھوتا دوسرے لوگ بھی بیٹھ جائیں دوسرے آنے والوں کے لئے جگہ کھول دیں۔۔۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ جب تمہیں یہ کہا جائے کہ مجلس میں اور آدمی آگئے ہیں تم ان کے لئے جگہ بناؤ۔فَافْسَحُواتم تنگ ہو کر بیٹھو اور آنے والوں کو جگہ دو يَفسح الله لكم اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے وسعت کے سامان پیدا کر دے گا۔اس آیت کا جو مفہوم ہے اس سے یہ معلوم ہو گا کہ یہاں کوئی معین وسعت مراد نہیں۔بلکہ وسعت مکان کی بھی ہوتی ہے، وسعت اولاد کی بھی ہوتی ہے ، وسعت اولاد سے خوشی میں بھی ہوتی ہے۔قرآن کریم کہتا ہے تم اپنی اولاد کے لئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ انہیں تمہاری آنکھوں کے لئے قرۃ العین“ یعنی ٹھنڈک بنائے۔اب اگر اس ٹھنڈک میں زیادتی ہو جائے تو یہ بھی ایک وسعت ہے۔پھر وسعت دل کے حوصلہ میں بھی ہوتی ہے، وسعت نیکیوں کی توفیق میں بھی ہوتی ہے ، وسعت خدا تعالیٰ کے فضل میں بھی ہوتی ہے ، اس کی برکت میں بھی ہوتی ہے، اس کی رحمت میں بھی ہوتی ہے۔یہ ہر قسم کی وسعتیں اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔“ خطبات ناصر ، خطبه جمعه فرموده ۲۳، دسمبر ۱۹۶۶، جلد اول صفحه ۵۳۰،۵۲۹) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: و مجلس میں بیٹھنے کے آداب ہیں۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اس طرح بیٹھے ہیں ایسا زاویہ ہوتا ہے کہ دائیں بائیں (اگر کہیں رش ہے تو) کوئی دوسرا بیٹھ نہ سکے، باوجود اس کے کہ جگہ ہو سکتی ہے۔تو ایسی مجالس میں جہاں رش کا زیادہ امکان ہو ہمیشہ اس طریق سے بیٹھنا چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے جگہ بنا سکے۔