صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 705
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۰۵ ۷۹ - كتاب الاستئذان باب ۳۲ : إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجْلِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللهُ لَكُم وَإِذَا قِيلَ انْشُزُوا فَالْشُزُوا (المجادلة : ١٢) الْآيَةَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو تو کھل کر بیٹھو اللہ تمہارے لئے کشائش کرے گا اور جب تمہیں کہا جائے اُٹھو تو تم اُٹھ کھڑے ہوا کرو ٦٢٧٠ : حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ۶۲۷۰ : خلاد بن بچی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ نَافِعِ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ سے، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مِنْ مَّجْلِسِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ آخَرُ وَلَكِنْ روایت کی کہ آپ نے منع فرمایا کہ آدمی کو اس کی تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ جگہ سے اُٹھایا جائے اور دوسرا وہاں بیٹھ جائے بلکہ يَكْرَهُ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ مِنْ مَّجْلِسِهِ ثُمَّ تم کھل کے بیٹھا کرو اور تم فراخدلی سے پیش آیا کرو اور حضرت ابن عمر نا پسند کیا کرتے تھے کہ کوئی شخص يَجْلِسَ مَكَانَهُ۔ أطرافه: ٩١١، ٦٢٦٩۔ اپنی مجلس سے اُٹھے، پھر کوئی اور اُس کی جگہ بیٹھے۔ تشريح : إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفْتَحُوا فِي الْمَجْلِسِس : یعنی جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجْلِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ ۚ وَإِذَا قِيلَ الْشُزُوا فَانْشُزُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَتِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (المجادلة: ۱۲) یعنی اے مؤمنو ! جب تم سے یہ کہا جائے کہ یہ کہا جائے کہ مجالس میں کھل کر بیٹھ جانا ں کھل کر بیٹھ جاؤ تو گھل کر بیٹھ جایا کرو اللہ بھی تمہارے لئے کشادگی کے سامان پیدا کرے گا۔ اور جب تمہیں کہا جائے کہ اُٹھ جاؤ تو اُٹھ جایا کرو۔ اللہ ان کو جو مؤمن ہیں اور علم حقیقی رکھنے والے ہیں درجات میں بڑھا دے گا اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب خبر دار ہے۔ (ترجمه تفسیر صغیر) حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فسح کے مصدر اور ف س ح کے مادہ کے معنی بھی لغوی لحاظ سے وسعت کے ہیں اور یہاں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب تمہیں کہا جائے کہ تم اپنی مجالس میں وسعت پیدا کرو تو تم اپنی مجالس میں وسعت پیدا کر دیا کرو۔ اس کے