صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 704 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 704

صحیح البخاری جلد ۱۴ 2+ -29 ۷۹۔کتاب الاستئذان خود تو ہر مومن کو یہی چاہیئے کہ دوسرے کا خیال رکھے اور اپنے بھائی کو بیٹھنے کے لئے جگہ دے لیکن کسی دوسرے آنے والے کا حق نہیں بنتا کہ زبر دستی کسی کو اُٹھائے کہ یہ جگہ میرے لئے خالی کرو۔یہ بھی مجلس کے آداب کے خلاف ہے اور اس بیٹھنے والے کے حق کے خلاف ہے سوائے اس کے کہ جہاں اجازت ہے، ایسی مجالس میں جہاں مجبوری ہو ، اُٹھانے کے لئے کہا جائے۔وہ تو قرآن شریف میں بھی حکم آیا ہے۔۔۔تو جہاں قرآن کریم میں یہ کشادگی کا حکم ہے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ اگر مجلس سے اُٹھایا جائے اور انتظامیہ اگر کہے کسی وجہ سے کہ یہاں سے بعض لوگ چلے جائیں، اُٹھ جائیں، تو اُٹھ جایا کرو۔کیونکہ بعض مجالس مخصوص ہوتی ہیں ان میں ہر ایک کو بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔تو یہاں بھی ہر احمدی کو کھلے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔۔۔پھر بعض مجالس ایسی ہیں مثلاً انتخاب وغیرہ میں بھی بعض لوگ حسب قواعد نہیں بیٹھ سکتے ، ان میں بعض کمیاں ہوتی ہیں تو اس پر شکوے بھی نہیں کرنے چاہئیں، بڑی خاموشی سے چلے جانا چاہیئے یا پھر جو ذمہ داریاں ہیں اُن کو پورا ادا کرنا چاہیئے۔وہ قواعد جن کی پابندی ضروری ہے اور جماعت نے مقرر کئے ہیں وہ کرنے چاہئیں۔اگر قواعد پہ عمل نہیں کیا پھر شکوے بھی نہ کریں۔یہ بھی اس مجلس کا حق ہے کہ اگر اُٹھایا جائے تو اُٹھ جائیں۔“ (خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۱۶ ، جولائی ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۴۹۸۲۴۹۶) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر مجلسوں میں تمہیں کہا جائے کہ کشادہ ہو کر بیٹھو یعنی دوسروں کو جگہ دو تو جلد جگہ کشادہ کر دو تا دوسرے بیٹھیں اور اگر کہا جائے کہ تم اُٹھ جاؤ تو پھر بغیر چون و چرا کے اُٹھ جاؤ۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۶)