صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 703
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۰۳ -29 ۷۹۔کتاب الاستئذان الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَّجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ کی۔آپ نے فرمایا: کوئی شخص کسی شخص کو اُس کی فِيهِ۔أطرافه: ٩١١، ٦٢٧٠- جگہ سے نہ اُٹھائے اور پھر خود اس جگہ بیٹھے۔تشريح: لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِن مجلس : کوئی شخص کسی شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: و بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے ، وہ اس تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ فلاں جگہ اگر خالی ہو تو میں جاکر بیٹھوں یا بعض دفعہ کسی مجلس میں کسی کی کوئی پسندیدہ شخصیت یا کوئی دوست وغیرہ ہو تو اس کے ارد گرد اگر جگہ نہیں ہوتی تو اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے بھی بڑی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح حاصل کیا جائے۔تو جب بھی موقع ملے کوئی جگہ خالی ہو چاہے کوئی عارضی طور پر پانی پینے کے لئے وہاں سے اُٹھا ہو ، کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہاں پہ بیٹھ جایا جائے۔اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ چاہے یہ دینی مجالس ہیں یا دعوتوں وغیرہ پر آپ اکٹھے ہوئے ہوئے ہیں یا کہیں بھی بیٹھے ہوتے ہیں۔جو کسی کام سے عارضی طور پر اُٹھ کر اپنی جگہ سے گیا ہے تو یہ اُسی کی جگہ ہے کسی دوسرے کا حق نہیں پہنچتا کہ اس کی جگہ پر بیٹھ جائے۔یہ بڑی غلط چیز ہے۔اور اگر وہ واپس آئے اور آپ ایک دو منٹ کے لئے بیٹھ بھی گئے ہیں تو فوراً اُٹھ کر اُس کو جگہ دینی چاہیئے۔“ (خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرموده ۱۶ جولائی ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۴۹۹،۴۹۸) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مجالس کے آداب کا ذکر کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں: مجالس میں بیٹھنے کے ضمن میں ایک روایت میں آتا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اُس کی جگہ سے اس غرض سے نہ اُٹھائے کہ تا وہ خود اس جگہ بیٹھے۔وسعت قلبی سے کام لو اور کھل کر بیٹھو۔چنانچہ ابن عمرؓ کا طریق تھا کہ جب کوئی آدمی آپ کو جگہ دینے کے لئے اپنی جگہ سے اٹھا تو آپ اُس کی جگہ پر نہ بیٹھتے۔اے (بخاری، کتاب الاستئذان، باب اذا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَحُوا فِي الْمَجْلِسِ)