صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 701
صحیح البخاری جلد ۱۴ 2 +1 -29 ۷۹۔کتاب الاستئذان عِشَاءَ اسْتَقْبَلَنَا أُحَدٌ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے پتھر یلے میدان میں مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيَّ چلا جارہا تھا۔اتنے میں اُحد کا پہاڑ ہمارے سامنے لَيْلَةٌ أَوْ ثَلَاثٌ عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا ہوا تو آپ نے فرمایا: ابوذر! میں پسند نہیں کرتا کہ أَرْصُدُهُ لِدَيْنِ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ میرے پاس اُحد برابر سونا ہو ، مجھ پر ایک رات یا فرمایا: تین رات ایسی گزر جائیں کہ اس میں سے اللهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَأَرَانَا بِيَدِهِ میرے پاس ایک دینار باقی رہے سوائے اس کے ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍ قُلْتُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ کہ جو میں نے قرض کے چکانے کے لئے رکھ چھوڑا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ الْأَكْثَرُونَ هُمُ ہو۔میں تو ضرور ہی اس کو اللہ کے بندوں میں اس الْأَقَلُّونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا طرح اس طرح اس طرح تقسیم کر دوں اور حضرت ثُمَّ قَالَ لِي مَكَانَكَ لَا تَبْرَحْ يَا أَبَا ذَرٍ ابوذر نے ہم کو اپنے ہاتھ کے اشارہ سے سمجھایا۔حَتَّى أَرْجِعَ فَانْطَلَقَ حَتَّى غَابَ عَنِّي پھر آپ نے فرمایا: ابوذر! میں نے کہا: لبيك فَسَمِعْتُ صَوْتًا فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ وَسَعْدَيْكَ، یا رسول اللہ۔آپ نے فرمایا: جو بہت عُرِضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مال دار ہیں وہی نادار ہوں گے سوائے اُن کے جو وَسَلَّمَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَذْهَبَ ثُمَّ ذَكَرْتُ ہوں اور یوں تقسیم کریں۔پھر آپ نے مجھے فرمایا: قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوزر! تم اپنی جگہ کھڑے رہنا، یہاں سے جانا نہیں لَا تَبْرَحْ فَمَكُمْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ جب تک میں لوٹ نہ آؤں۔آپ چلے گئے اور سَمِعْتُ صَوْتًا خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ میری نظر سے غائب ہو گئے۔اتنے میں میں نے عُرِضَ لَكَ ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ فَقُمْتُ ایک آواز سنی اور میں ڈرا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حادثہ نہ پیش آیا ہو۔میں نے ارادہ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیا کہ جاؤں۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ ارشاد کا خیال کیا کہ یہاں سے جانا نہیں، اس لئے مَّاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا میں ظہرارہا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنْ ایک آواز سنی، میں ڈرا کہ کہیں کوئی حادثہ پیش نہ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ آیا ہو۔پھر میں نے آپ کے ارشاد کا خیال کیا اور