صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 698
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۹۸ ۷۹ - كتاب الاستئذان الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اور اللہ کے نیک بندوں پر۔میں گواہی دیتا ہوں کہ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَهُوَ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا فَلَمَّا قُبِضَ قُلْنَا السَّلَامُ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اور آپ اس يَعْنِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وقت ہمارے درمیان موجود تھے۔جب آپ کی وفات ہو گئی ہم نے کہا: سلامتی ہو، یعنی نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ۔علیہ وسلم پر۔أطرافه: ۸۳۱ ۸۳ ۱۲۰۲ ٦٢۳۰، ٦٣٢٨، ٧٣٨١۔بَاب ۲۹ : الْمُعَانَقَةُ ایک دوسرے کو گلے لگا کر ملنا وَقَوْلُ الرَّجُلِ كَيْفَ أَصْبَحْتَ۔اور آدمی کا یہ کہنا کہ آج صبح کیسا مزاج ہے؟ ٦٢٦٦: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ :۶۲۶۶: اسحاق بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ الزُّهْرِي که بشر بن شعیب نے ہمیں بتایا کہ میرے باپ نے قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبٍ أَنَّ مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے زہری سے ، زہری عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا نے کہا: عبد اللہ بن کعب نے مجھے بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے ان کو خبر دی کہ حضرت علی يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ یعنی ابن ابی طالب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔ح۔سے نکلے۔اور احمد بن صالح نے بھی ہم سے بیان و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا کیا کہ عنبہ (بن خالد ) نے ہمیں بتایا کہ یونس (بن عَنْبَسَةٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ يزید) نے ہم سے بیان کیا۔یونس نے ابن شہاب قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ سے ابن شہاب نے کہا: عبد اللہ بن کعب بن مالک ، مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ الله عنه ان کو بتایا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اس بیماری میں وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ جس میں آپ فوت ہوئے، باہر نکلے تو لوگوں نے أَنَّ