صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 696
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۹۶ ۷۹ کتاب الاستئذان أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَی یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں سے جو لڑنے والے ذَرَارِيُّهُمْ فَقَالَ لَقَدْ حَكَمْتَ بِمَا حَكَمَ تھے ان کو قتل کیا جائے اور ان لڑنے والوں کے بِهِ الْمَلِكُ۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ أَفْهَمَنِي بال بچے قید کر لئے جائیں۔آپ نے سن کر فرمایا: بَعْضُ أَصْحَابِي عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ مِنْ تم نے وہ فیصلہ کیا ہے جو اس بادشاہ (یعنی خدا) نے قَوْلِ أَبِي سَعِيدٍ إِلَى حُكْمِكَ۔فیصلہ کیا۔ابو عبد اللہ (امام بخاری نے کہا: میرے بعض ساتھیوں نے ابوالولید سے حضرت ابوسعید کا قول نقل کرتے ہوئے یوں بتایا: یعنی عَلى حُكْمِكَ کی بجاۓ إلى حكمك۔أطرافه 30٤٣، 3804، 4111۔بَاب ۲۷ : الْمُصَافَحَةُ مصافحہ کرنا وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ اور حضرت ابن مسعودؓ نے کہا: مجھے رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهدَ وَكَفِّي صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد سکھایا اور میرا ہاتھ آپ بَيْنَ كَفَّيْهِ۔وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا۔اور حضرت دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا بِرَسُولِ اللهِ كعب بن مالک نے کہا: میں مسجد میں داخل ہوا تو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔بْنُ عُبَيْدِ اللهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ آٹھ کر دوڑتے ہوئے میرے پاس آئے اور آکر مجھ سے مصافحہ کیا اور وَهَنَّأَنِي۔مجھے مبارک دی۔٦٢٦٣ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ۶۲۶۳: عمرو بن عاصم نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قُلْتُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے روایت کی۔لِأَنَسٍ أَ كَانَتِ الْمُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس سے پوچھا: کیا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ کرنے کا رواج تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔