صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 693 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 693

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۹۳ -29 ۷۹۔کتاب الاستئذان - پاس آئی ہوں تا کہ مجھے کچھ مالی امداد مل جائے۔اس پر آنحضرت نے بعض لوگوں کو فرمایا اور انہوں نے اُس کو کچھ کپڑا اور روپیہ وغیرہ دیا جس کے بعد وہ واپس اپنے وطن کو روانہ ہو گئی۔جب روانہ ہونے لگی تو حاطب نے جو کہ اصحاب میں سے تھا، اُس کو دس درہم دیئے اور کہا کہ میں تجھے ایک خط دیتا ہوں، یہ خط اہل مکہ کو دے دینا۔اس بات کو اس نے قبول کیا اور وہ یہ خط بھی لے گئی۔اس خط میں حاطب نے اہل مکہ کو خبر کی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا ہے، تم ہوشیار ہو جاؤ۔وہ عورت ہنوز مدینہ سے روانہ ہی ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی الہی خبر مل گئی کہ وہ ایک خط لے کر گئی ہے۔چنانچہ آپ نے اسی وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بمعہ عمارڑ اور ایک جماعت کے روانہ کر دیا کہ اس کو پکڑ کر اس سے خط لے لیں اور اگر نہ دے تو اسے ماریں۔چنانچہ اس جماعت نے اُس کو راہ میں جا پکڑا۔اس نے انکار کیا اور قسم کھائی کہ میرے پاس کوئی خط نہیں، جس پر حضرت علی نے تلوار کھینچ لی اور کہا کہ ہم کو جھوٹ نہیں کہا گیا۔بذریعہ وحی الہی کے خبر ملی ہے۔خط ضرور تیرے پاس ہے۔تلوار کے ڈر سے اُس نے خط اپنے سر کے بالوں میں سے نکال دیا۔جب خط آگیا اور معلوم ہوا کہ وہ حاطب کی طرف سے ہے تو حاطب بلایا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ یہ تو نے کیا کیا؟ اس نے کہا: مجھے خدا کی قسم ہے کہ جب سے میں ایمان لایا ہوں بھی کافر نہیں ہوا۔بات صرف اتنی ہے کہ مکہ میں میرے قبائل کا کوئی حامی اور خبر گیر نہیں۔میں نے اس خط سے صرف یہ فائدہ حاصل کرنا چاہا تھا کہ کفار میرے قبائل کو دُکھ نہ دیں۔حضرت عمر نے چاہا کہ حاطب کو قتل کر دیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اصحاب بدر پر خوشنودی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کر وجو بھی ہو ، میں نے تمہیں بخش دیا۔“ حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحه ۵۲۹٬۵۲۸)