صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 692
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۹۲ -29 ۷۹ - کتاب الاستئذان عُمَرَ وَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ۔تو ہو چکی۔حضرت علی کہتے تھے: یہ سن کر حضرت عمر کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔أطرافه: ۳۰۰۷ ،۳۰۸۱، ۳۹۸۳، ٤٢٧٤، ٤٨٩٠ ٦٩٣٩- تشريح۔مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ مَنْ يُحْذَرُ عَلَى الْمُسْلِمين: جس شخص سے مسلمانوں کو اندیشہ ہو اس کے خط کو جس نے دیکھا۔امام بخاری نے عنوان باب لفظ 'من' سے شروع کر کے مخصوص واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔آداب معاشرہ میں اس بات کو مہذب معاشروں میں بہت اہمیت دی جاتی ہے اور آج کی روشنی کے زمانہ کے لوگ بھی اس امر کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ کسی کا خط نہ کھولا جائے اور مکتوب الیہ کی اجازت کے بغیر اس کا خط کھولنا اس کی پرائیویسی کے خلاف قرار دیا جاتا ہے۔اسلام نے اس خلق کو آج سے چودہ سو سال پہلے نہ صرف بیان کیا بلکہ اس کے دوسرے پہلو پر بھی روشنی ڈالی کہ اگر کوئی خط کسی قومی مفاد کے خلاف ہو اور قوم کے لئے خطرے اور نقصان کا باعث ہو تو اس خط کو کھول کر امر واقعہ کی حقیقت تک پہنچنا سیکیورٹی اور خود حفاظتی کا لازمہ ہے اور پوری قوم کو خطرے میں ڈالنا کسی فرد واحد کی ذاتی اور پرائیویٹ زندگی سے زیادہ اہم ہے۔جبکہ یہ بھی یقینی خبر مل چکی ہو کہ وہ خط لے جانے والا جاسوس ہے اور اس خط کا پہنچ جانا دونوں قوموں کے سینکڑوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔یہ واقعہ اس جاسوس عورت کا ہے جو مدینہ بھیک مانگنے کے بہانہ آئی اور اسلامی حکومت کے اندر کے حالات کا جائزہ لے کر واپس جارہی تھی اور اس کی جاسوسی کو پکڑنے کا خدا تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے اپنی سادگی میں اس کے ہاتھ اہل مکہ کے نام خط دے دیا۔اس ساری صورت حال سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی اطلاع کر دی جس پر آپ نے تین شتر سواروں کو اس کے تعاقب میں بھیجا جو اس عورت کو اس خط سمیت پکڑ کر لے آئے جو وہ اہل مکہ کے لئے لے کر جارہی تھی۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس جگہ سارہ والے واقعہ کا بیان کر دینا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا اور وہ اس طرح سے ہے کہ سارہ نام ایک عورت جو کہ مکہ میں رہتی تھی اور خاندان بنی ہاشم کے زیر سایہ پرورش پا یا کرتی تھی۔اُن ایام میں جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے واسطے کوچ کی تیاری کی، آپ کے پاس مدینہ میں آئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے پوچھا کہ کیا تُو مسلمان ہو کر مکہ سے بھاگ آئی ہے ؟ اُس نے جواب دیا کہ نہیں، میں مسلمان ہو کر نہیں آئی بلکہ بات یہ ہے کہ میں اس وقت محتاج ہوں اور آپ کا خاندان ہمیشہ میری پرورش کیا کرتا ہے۔اس واسطے میں آپ کے