صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 687
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۸۷ ۷۹ - كتاب الاستئذان بَاب ۲۱: مَنْ لَّمْ يُسَلِّمْ عَلَى مَنِ اقْتَرَفَ ذَنْبًا جو اُس شخص کو السلام علیکم نہ کہے جس نے کوئی گناہ کیا ہو وَلَمْ يَرُدَّ سَلَامَهُ حَتَّى تَتَبَيَّنَ تَوْبَتُهُ اور اس کے سلام کا بھی جواب نہ دے جب تک وَإِلَى مَتَى تَتَبَيَّنُ تَوْبَةُ الْعَاصِي۔کہ اس کی توبہ کھلے طور پر معلوم نہ ہو جائے اور کب تک گناہ گار کی تو بہ معلوم ہو سکتی ہے۔وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لَا تُسَلِّمُوا اور حضرت عبد اللہ بن عمرو نے کہا: اور تم شراب عَلَى شَرَبَةِ الْخَمْرِ۔خوروں کو بھی السلام علیکم نہ کہو۔٦٢٥٥: حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۶۲۵۵: (یحی) بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، عقیل عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بن نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے عبد الرحمن بن كَعْبٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ قَالَ عبد الله بن کعب سے ، عبد الرحمن نے عبد اللہ بن سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكِ يُحَدِّثُ کعب سے، عبد اللہ نے کہا: میں نے حضرت کعب حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ تَبُوكَ وَنَهَى رَسُولُ بن مالک سے سنا۔وہ اس واقعہ کے متعلق بیان کرتے تھے جبکہ وہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے کہ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَلَامِنَا وَآتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بات چیت کرنا منع کر دیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَأَقُولُ فِي نَفْسِي کے پاس آتا اور آپ کو السلام علیکم کہتا اور پھر هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَةِ السَّلَامِ أَمْ لَا اپنے دل میں کہتا: کیا آپ نے سلام کا جواب دینے حَتَّى كَمَلَتْ خَمْسُونَ لَيْلَةً وَآذَنَ میں اپنے ہونٹوں کو ہلایا یا نہیں۔آخر اس طرح النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ پچاس راتیں پوری ہو گئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللَّهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى الْفَجْرَ۔نے اعلان کیا کہ ہماری توبہ قبول ہو گئی اس وقت جبکہ آپ نے صبح کی نماز پڑھی۔أطرافه ٢٧٥٧ ،۲۹٤۷، ،۲۹٤۸ ، ۲۹٤۹ ، ۲۹۰۰، ۳۰۸۸، ٣٥٥٦، ٣٨٨، ٣٩٥١، ٤٤١٨ ، ٤٤٦٧٣ ٤٦٧٦، ٤٦٧٧، ٤٦٧٨، ٦٦۹۰، ٧٢٢٥۔