صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 686
صحیح البخاری جلد ۱۴ YAY ۷۹ - كتاب الاستئذان يُخَفِّضُهُمْ ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ کرنے کے لئے بھی آمادہ ہوئے۔نبی صلی اللہ علیہ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ أَيْ سَعْدُ وَسلم ان کے جوش کو فرو کرتے رہے۔پھر آپ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابِ يُرِيدُ اپنے جانور پر سوار ہو گئے اور حضرت سعد بن عبادۃ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَي قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ کے پاس آئے۔آپ نے فرمایا: سعد تم نے سنا نہیں اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ جو ابو حباب نے کہا؟ یعنی عبد اللہ بن ابی نے ایسا ایسا کہا ہے۔انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! آپ اس فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاكَ کو معاف کریں اور اس سے درگزر فرمائیں۔اللہ کی وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبَحْرَةِ عَلَى تم ! اللہ نے آپ کو جو دیا ہے ، اس بستی والوں نے أَنْ يُتَوّجُوهُ فَيُعَصِبُونَهُ بِالْعِصَابَةِ فَلَمَّا آپس میں یہ ٹھہر اہی لیا تھا کہ اس کو تاج پہنائیں اور رَدَّ اللهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ اس کے سر پر سرداری کی پگڑی باندھیں۔جب شَرِقَ بِذَلِكَ فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ اللہ نے اس کو اس حق کی وجہ سے جو اس نے آپ فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو دیا منظور نہ کیا تو اس سے اس کا گلا گھٹ گیا اسی لئے اس نے ایسا کیا ہے جو آپ نے دیکھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اس سے در گزر کیا۔أطرافه: ٢٩٨٧، ٤٥٦٦ ، ٥٦٦٣، ٥٩٦٤، ٦٢٠٧۔تشريح۔التَّسْلِيمُ فِي مَجْلِسِ فِيهِ أَخْلَاطُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ: ایسی مجلس میں جا مسر السلام علیکم کہنا جس میں مسلمان اور مشرک ملے جلے ہوں۔عنوان باب کے ان الفاظ سے غیر مسلموں اور مشرکوں وغیرہ کو سلام کرنے اور نہ کرنے کے جواز اور عدم جواز دونوں کا استدلال کیا گیا ہے۔زیر باب روایت سے غیر مسلموں وغیرہ کو سلام نہ کرنے والوں کا موقف یہ ہے کہ چونکہ اس مجلس میں مسلمان بھی موجود تھے اس لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سلام کیا وہ مسلمانوں کو تھا مگر اس مؤقف والوں کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جبکہ دوسر ا موقف زیادہ درست، وسیع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلامتی اور امن کے پیغام کا حامل ہے اور اس کی تائید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہی کافی ہے: وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَعَلَى مَنْ لَّمْ تعرف لے یعنی جس کو پہچانتے ہو اس کو بھی سلام کہو اور اس کو بھی جسے تم نہ پہنچانو۔پس کوئی وجہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمتہ اللعالمین کے فیض کو مسلمانوں تک محدود رکھا جائے اور آپ کی سلامتی کی دعا سے مشرک اور یہودی وغیرہ کو محروم سمجھا جائے۔یہ آپ کی تعلیم ، اسوہ اور شان کے خلاف ہے۔(بخاری، کتاب الاستئذان، باب السّلامُ لِلْمَعْرِفَةِ وَغَيْرِ الْمَعْرِفَةِ، روایت نمبر ۶۲۳۶)