صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 688
صحیح البخاری جلد ۱۴ ЧАЛ -29 ۷۹ - كتاب الاستئذان يح : مَن لَّمْ يُسَلِّمُ عَلَى مَنِ اقْتَرَفَى ذَنْبًا : جو اس شخص کو السلام علیکم نہ کہے جس نے کوئی گناہ کیا ہو۔امام بخاری جو باب 'من' سے شروع کرتے ہیں اس میں اس کا جواب معین اشخاص کو مد نظر رکھتے ہوئے استدلالی صورت میں روایتوں کے انتخاب اور اُن کی ترتیب میں مقدر ہوتا ہے۔عنوان باب کے یہ الفاظ مَن لَّمْ يُسَلِّمْ عَلَى مَنِ اقترف ذنبا یعنی جو اس شخص کو السلام علیکم نہ کہے جس نے کوئی گناہ کیا ہو، اس سے یہ سمجھنا کہ اسلام کسی گناہگار کو سلام کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اسلام کا یہ عام قاعدہ اور اصول نہیں ہے مگر استثنائی صورت میں بسا اوقات ایسا کرنا تربیت اور تادیب کا تقاضا ہوتا ہے کہ ناراضگی کی صورت میں بسا اوقات انسان سلام کا جواب نہیں دیتا یا کھل کر اظہار نہیں کرتا جس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہمارے درمیان کچھ چشمک اور ناراضی ہے جیسا کہ زیر باب روایت میں حضرت کعب بن مالک سے ان کی سزا کے ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا۔اور یہ بھی اسلامی اخلاق کا ایک عمدہ اظہار ہے۔غصہ، ناراضگی یا عدم توجہ اگر بر محل ہو تو یہ بھی ایک خلق ہے نہ کہ بد اخلاقی۔پس اسلام جو دین فطرت ہے انسانی فطرت کے ہر تقاضے کو پورا کرتا ہے اور اس کے مناسب حال تعلیم دیتا ہے۔یہی کامل تعلیم کی شان ہے۔بَاب :۲۲ : كَيْفَ الرَّدُّ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ بِالسَّلَامُ زمی کو سلام کا جواب کیونکر دیا جائے ٦٢٥٦: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۶۲۵۶: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ زہری نے کہا: مجھے عروہ نے بتایا کہ حضرت عائشہ رَهْطٌ مِّنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: یہودیوں میں سے کچھ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ لوگ نبی صل الم کے پاس آئے اور کہا: الشام فَفَهِمْتُهَا فَقُلْتُ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ عَلَيْكَ۔میں سمجھ گئی۔میں نے بھی کہا: عَلَيْكُمُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ رسول اللہ لی ایم نے یہ سن کر مَهْلًا يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ الرّفْقَ فرمایا : عائشہ! ٹھہر و۔اللہ ہر معاملہ میں نرمی پسند فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَمْ کرتا ہے۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا آپ نے تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى سنا نہیں جو انہوں نے کہا؟ رسول اللہ صلی ا ہم نے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ فرمایا: میں بھی تو جواب دے چکا ہوں عَلَيْكُمْ۔أطرافه ٢٩٣٥، ۶۰۲٤، ۶۰۳۰، 63۹۵، 6401، ٦٩٢٧۔