صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 685
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۸۵ ۷۹ - كتاب الاستئذان تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ ہوئے جس پر پالان تھی۔اس پر فدک کی چادر أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ پڑی تھی اور آپ نے حضرت اسامہ بن زید کو عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَج اپنے پیچھے سوار کیا اور آپ بنی حارث بن خزرج وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ حَتَّى مَرَّ فِي کے محلے میں حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کو جا مَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاظٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رہے تھے۔اور یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ جاتے ہوئے آپ ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور مشرک بت پرست اور یہودی ملے جلے تھے اور ان میں عبد اللہ بن وَفِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيَ ابْنُ سَلُولَ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ أبي بن سلول بھی تھا اور اس مجلس میں حضرت فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ عبد الله بن رواحہ بھی تھے۔جب مجلس پر جانور کی اللہ حَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيَ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ثُمَّ گرد پڑنے لگی تو عبد اللہ بن اُبی نے اپنی چادر سے قَالَ لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ اپنی ناک کو ڈھانپ لیا پھر کہا: ہم پر غبار مت اڑاؤ۔النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں السّلامُ عَلَيْكُمْ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ کہا۔پھر ٹھہر گئے اور نیچے اتر آئے۔آپ نے ان کو الْقُرْآنَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيَ ابْنُ اللہ کی طرف بلایا اور ان کے سامنے قرآن پڑھا۔سَلُولَ أَيُّهَا الْمَرْءُ لَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا عبد الله بن أبي بن سلول بولا: بھلے آدمی ! اگر جو تم کہتے ہو سچ ہے تو اس سے اچھی اور کوئی بات نہیں مگر إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ قَالَ ابْنُ ہمیں ہماری مجلسوں میں آکر تکلیف نہ دیا کرو۔اپنے ڈیرے کو لوٹ جاؤ۔جب ہم میں سے کوئی تمہارے پاس وہاں آئے تو اس کو یہ قصے سنانا۔رَوَاحَةَ اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ حضرت ابن رواحہ بولے: آپ ہماری مجلسوں میں ذَلِكَ فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ آیا کریں کیونکہ ہم یہ باتیں پسند کرتے ہیں۔اس پر وَالْيَهُودُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَّتَوَاثَبُوا فَلَمْ مسلمان اور مشرک اور یہود ایک دوسرے کو بُرا يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بھلا کہنے لگے یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ