صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 45 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 45

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۵ ۷۵ کتاب المرضى خدشات کا جواب دے چکے ہیں جو انہیں اپنے کسی موروثی حق کے بارے میں پیدا ہوئے تھے۔تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب فرض الخمس روایت نمبر ۳۰۹۴ وصیت کے خیال کارڈ روایت نمبر ۴۴۵۹، ۴۴۶۰ سے ہوتا ہے۔یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے سینہ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ آخری سانس لیا۔یہ روایت خلاف ہے اُس روایت کے جو حاکم اور ابن سعد نے نقل کی ہے کہ آپ حضرت علی کی گود میں فوت ہوئے۔ابن حجر کی تحقیق میں وہ روایت مختلف سندوں سے نقل کی گئی ہے اور ہر سند میں کوئی نہ کوئی شیعہ راوی ہے اور قابل التفات نہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۷۴، ۱۷۵) ( صحیح بخاری ترجمه و شرح جلد نهم صفحه ۳۴۹) بَاب ۱۸: مَنْ ذَهَبَ بِالصَّبِيِّ الْمَرِيضِ لِيُدْعَى لَهُ جو بیمار بچے کو اس غرض کے لئے لے جائے کہ اس کے لئے دعا کی جائے ٥٦٧٠ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ۵۶۷۰: ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنِ حاتم نے جو کہ اسماعیل کے بیٹے تھے ہمیں بتایا۔الْجُعَيْدِ قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ يَقُولُ انہوں نے جعید سے، جعید نے کہا میں نے حضرت سائب بن یزید صحابی) سے سنا وہ کہتے ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ تھے: میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا کے پاس لے گئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! میرا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ بهانجا بیمار ہے۔تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ تَوَضَّأَ اور میرے لئے برکت کی دعا کی۔پھر آپ نے فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُونِهِ وَقُمْتُ خَلْفَ وضو کیا اور میں نے آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ پیا اور آپ کی پیٹھ کے پیچھے جا کھڑا ہوا اور میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان نبوت کی كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ۔أطرافه : ١٩٠، 35٤٠، 3541، 6351- مہر کو دیکھا جو چکور کے انڈے کی طرح تھی۔