صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 46
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۶ بَاب ۱۹ : تَمَنِّي الْمَرِيضِ الْمَوْتَ بیمار کاموت کی آرزو کرنا ۷۵ کتاب المرضى ٥٦٧١: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۵۶۷۱ آدم ( بن ابی ایاس) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ حَدَّثَنَا ثَابِتْ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ نے ہم سے بیان کیا کہ ثابت بنانی نے ہمیں بتایا۔مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرِ أَصَابَهُ فَإِنْ سے کوئی کسی تکلیف کی وجہ سے جو اسے پہنچی ہے كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي موت کی آرزو نہ کرے اور اگر وہ ایسا کرنے کے مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي لیے لاچار ہے تو یوں دعا کرے: اے اللہ مجھے إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي۔زندہ رکھیو جب تک زندگی میرے لئے بہتر ہو اور مجھے وفات دیدے اگر وفات میرے لئے بہتر ہو۔اطرافه : ٦٣٥١، ۷۲۳۳- ٥٦٧٢: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا :۵۶۷۲ آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بنِ أَبِي خَالِدٍ کیا کہا شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ دَخَلْنَا عَلَى بن ابی خالد سے، اسماعیل نے قیس بن ابی حازم خَبَّابٍ نَعُودُهُ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعَ سے روایت کی۔(انہوں نے کہا:) ہم حضرت كَيَّاتٍ فَقَالَ إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ خباب بن ارت صحابی) کے پاس ان کی بیمار پرسی کے لئے گئے اور انہوں نے سات داغ لگوائے سَلَفُوا مَضَوْا وَلَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا ہوئے تھے وہ کہنے لگے: ہمارے ساتھی جو پہلے وَإِنَّا أَصَبْنَا مَا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا تھے وہ چلے گئے اور اس دنیا نے ان کے ثواب کو الثَّرَابَ وَلَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله کم نہیں کیا اور ہم نے اتنی (دولت) پائی ہے کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ اس کے رکھنے کے لئے مٹی کے سوا اور کوئی جگہ لَدَعَوْتُ بِهِ ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى نہیں پاتے اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وَهُوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ فَقَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ موت کی دعا کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں