صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 44 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 44

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۵ کتاب المرضى عیادت کرنے کے بعد واپس آ جانا چاہیئے۔اور گھر کے جو افراد تیمار داری کر رہے ہیں انہیں کو وہاں رہنا چاہیئے۔یا اگر ہسپتال میں ہیں تو ہسپتال کے انتظام کے تحت۔بعض دفعہ عزیز رشتہ دار ہسپتالوں میں بھی اتنارش کر دیتے ہیں کہ ساتھ کے دوسرے مریض بھی ان کے بچوں اور ان کے اپنے شور سے ڈسٹرب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔اور پھر ایسی صورت میں بعض دفعہ ہسپتال کی انتظامیہ کو سختی بھی کرنی پڑتی ہے۔ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ رش کرنے کی عموم أعادت ہے۔بعض اوقات مریض کے پاس زیادہ رش کرنے کی وجہ سے لوگوں کی سانسوں کی وجہ سے، مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں، فضا بھی اتنی صاف نہیں رہتی جس سے مریض کی تکلیف بڑھنے کا بھی امکان ہوتا ہے۔اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھیں ہمارے سامنے پہلے ہی یہ اسوہ رکھ دیا کہ مریض کی عیادت کرو، اس کو تسلی دو، اس کے لئے دعا کرو اور واپس آ جاؤ وہاں بیٹھ کے مجلسیں نہ جھاؤ۔اسی طرح ان کے علاوہ مریض کے گھر والوں کو بھی جو تیمار داری کر رہے ہیں زیادہ رش نہیں رض کرنا چاہئے۔“ (خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرموده ۱۵، اپریل ۲۰۰۵، جلد ۳ صفحه ۲۴۳، ۲۴۴) هَلُمَّ أَكُتُبْ لَكُمْ كِتَابَالَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ : لاؤ میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں تا کہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ”شیعہ کہتے ہیں کہ یہ وصیت حضرت علی کے حق خلافت سے متعلق مقصود بالذات بھی جو حضرت عمرؓ نے یہ کہہ کر کہ کیا کتاب اللہ ہمارے لئے کافی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھنے نہیں دی۔یہ امر واقعہ ہے جو اسی روایت میں مذکور ہے کہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی بات پر حاضرین میں جھگڑا تھا جس سے ایک شور اُٹھا۔کیا یہ احتمال نہیں کہ حضرت عمرؓ نے اپنے محبوب آقا کی تکلیف کا احساس کر کے ایسا کیا۔جب یہ بھی احتمال ہے جو اغلب ہے تو محض ایک فرضی خیال سے کسی مثبت بات کے بارے میں قیاس یقین کا درجہ نہیں رکھتا اور اس قیاس پر اصرار دوسری غلطی ہے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر واقعات کی بناء پر حضرت علی اور حضرت عباس کو ایک موقع پر ان کے بعض