صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 682
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۸۲ ۷۹ - كتاب الاستئذان بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ منکدر سے روایت کی۔ محمد نے کہا: میں نے حضرت جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ أَتَيْتُ جابر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ میں نبی النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنِ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قرضے کے متعلق كَانَ عَلَى أَبِي فَدَفَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ آیا جو میرے باپ کے ذمہ تھا۔ میں نے دروازہ مَنْ ذَا فَقُلْتُ أَنَا فَقَالَ أَنَا أَنَا كَأَنَّهُ کھٹکھٹایا۔ آپؐ نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: كَرِهَها ۔ میں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تو میں ہوں۔ جیسے آپ نے اسے ناپسند فرمایا۔ أطرافه: ۲۱۲۷، ۲۳۹۵، ۲۳۹۹، ۲۴۰۵، ۲۰۰۱، ۲۷۰۹، ۲۷۸۱، ٣٥٨٠، ٤٠٥٣۔ باب ۱۸ : مَنْ رَدَّ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ جس نے جواب دیا اور یوں کہا: عَلَيْكَ السلامُ وَقَالَتْ عَائِشَةُ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اور حضرت عائشہ نے کہا: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ الْمَلَائِكَةُ عَلَى آدَمَ ملائکہ نے آدم کو بھی جواب دیا: السَّلَامُ عَلَيْكَ السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ۔ وَرَحْمَةُ اللهِ ٦٢٥١ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ۶۲۵۱ : اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عبد اللہ بن نمیر نے ہمیں بتایا کہ عبید اللہ نے ہم سے بیان کیا۔ عبید اللہ نے سعید بن ابی سعید مقبری عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ روایت کی کہ ایک شخص مسجد میں آیا اور رسول اللہ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک طرف بیٹھے ہوئے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي تھے۔ اس نے نماز پڑھی اور اس کے بعد آکر آپ نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ کو سلام کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے