صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 681
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۸۱ ۷۹- كتاب الاستئذان وَتُكَرْكِرُ حَبَّاتٍ مِّنْ شَعِيرٍ فَإِذَا صَلَّيْنَا ان کو ہانڈی میں ڈالتی اور جو کے کچھ دانے دلتی۔ الْجُمُعَةَ انْصَرَفْنَا وَنُسَلِّمُ عَلَيْهَا فَتُقَدِّمُهُ جب ہم نماز پڑھ چکتے تو وہاں سے لوٹتے اور اس کو إِلَيْنَا فَتَفْرَحُ مِنْ أَجْلِهِ وَمَا كُنَّا نَقِيلُ السلام علیکم کہتے تو وہ یہ کھانا ہمارے سامنے رکھتی وَلَا نَتَغَدَّى إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ۔ اور ہم اس لئے خوش ہوتے اور ہم نہ قلیولہ کرتے اور نہ دو پہر کا کھانا کھاتے مگر جمعہ کے بعد ۔ أطرافه: ۹۳۸، ۹۳۹، ۹۴۱ ، ٢٣۴۹، ٥٤٠٣، ٦٢٧٩۔ ٦٢٤٩ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا ۶۲۴۹: (محمد) ابن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عبد اللہ بن مبارک) نے ہمیں بتایا کہ معمر نے عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ہم سے بیان کیا۔ معمر نے زہری سے ، زہری نے عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے، ابوسلمہ نے حضرت رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ بیان کرتی عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا عائشہ ! قَالَتْ قُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ یہ جبریل ہیں جو تم کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتے ہیں۔ اللَّهِ تَرَى مَا لَا نَرَى تُرِيدُ رَسُولَ اللهِ حضرت عائشہ کہتی تھیں: میں نے کہا: وَعَلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَابَعَهُ شُعَيْبٌ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ الله ۔ آپ وہ کچھ دیکھتے ہیں جو وَقَالَ يُونُسُ وَالنُّعْمَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ہم نہیں دیکھتے۔ حضرت عائشہ کی مراد اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔ (معمر کی وَبَرَكَاتُهُ۔ طرح) اس حدیث کو شعیب نے بھی روایت کیا۔ اور یونس اور نعمان نے بھی زہری سے یہی نقل کیا۔ اس میں وَبَرَكَاتُهُ بھی ہے۔ أطرافه: ۳۲۱۷، ٣٧٦٨، ٦٢٠١۔ باب ۱۷ : إِذَا قَالَ مَنْ ذَا فَقَالَ أَنَا اگر کوئی پوچھے کون ہے تو جواب دے میں ہوں ٦٢٥٠ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ ۲۲۵۰ : ابو الولید ہشام بن عبد الملک نے ہم سے