صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 680
صحیح البخاری جلد ۱۴ YA+ ۷۹ - كتاب الاستئذان فَدَعَوْتُهُمْ فَأَقْبَلُوا فَاسْتَأْذَنُوا فَأُذِنَ تھے: میں ان کے پاس آیا اور ان کو بلایا۔وہ چلے لَهُمْ فَدَخَلُوا۔أطرافه: ٥٣٧٥، ٦٤٥٢۔آئے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی اور انہیں اجازت دی گئی۔پھر وہ اندر آئے۔باب ١٥: التَّسْلِيمُ عَلَى الصَّبْيَانِ بچوں کو سلام کہنا ٦٢٤٧: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ :۶۲۴۷: علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ ثَابِتٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سیار (بن وردان) الْبُنَانِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ سے، سیار نے ثابت بنانی سے ، ثابت نے حضرت عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى صِبْيَانِ فَسَلَّمَ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ عَلَيْهِمْ وَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله کچھ بچوں کے پاس سے گزرے۔انہوں نے ان کو السلام علیکم کہا اور کہنے لگے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ۔ایسا ہی کیا کرتے تھے۔باب ١٦ : تَسْلِيمُ الرِّجَالِ عَلَى النِّسَاءِ وَالنِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ مردوں کا عورتوں کو سلام کہنا اور عورتوں کا مر دوں کو ٦٢٤٨: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۶۲۳۸: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سَهْلٍ قَالَ كُنَّا نَفْرَحُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ہے، ان کے باپ نے حضرت سہل سے روایت قُلْتُ لِسَهْلٍ وَلِمَ؟ قَالَ كَانَتْ لَنَا کی۔انہوں نے کہا: ہم جمعہ کے دن خوشی منایا کرتے تھے۔میں نے حضرت سہل سے کہا: کیوں ؟ عَجُوزٌ تُرْسِلُ إِلَى بُضَاعَةَ {قَالَ ابْنُ انہوں نے کہا: ہماری ایک بوڑھیا تھی جو بضاعہ کی مَسْلَمَةَ: نَحْلِ بِالْمَدِينَةِ فَتَأْخُذُ طرف کسی کو بھیجتی۔ابن مسلمہ نے کہا: بضاعہ مدینہ مِنْ أُصُولِ السّلْقِ فَتَطْرَحُهُ فِي قِدْرٍ میں ایک نخلستان تھا۔اور وہ چقندر کی جڑیں لیتی اور یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۴۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔