صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 679 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 679

صحیح البخاری جلد ۱۴ 729 ۷۹ - كتاب الاستئذان -29 جاؤ۔اگر کوئی گھر والا موجود ہو اور کھل کر یہ کہہ بھی دے کہ اس وقت مجبوری کی وجہ سے میں مل نہیں سکتا تو پھر برانہ مناؤ بلکہ جو کہا گیا ہے وہ کرو۔اور وہ یہی کہا گیا ہے کہ واپس چلے جاؤ، اس لیے بہتری اسی میں ہے کہ واپس چلے جاؤ۔سلام تو اس لیے پھیلا رہے ہو کہ سلامتی کا پیغام پھیلے، امن کا پیغام پھیلے، آپس میں محبت اور اخوت قائم ہو، تمہارے اندر پاکیزگی قائم ہو تو پھر اگر کوئی گھر والا معذرت کر دے یا ملنانہ چاہے تو اس کے باوجو د ملنے والا برانہ منائے اور گھر والے کی بات مان لے۔تو یہ ہے اسلامی معاشرہ جو سلام کو رواج دے کر قائم ہو گا۔“ خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ،۳، ستمبر ۲۰۰۴ء، جلد ۲ صفحه ۶۲۹،۶۲۸) بَاب ١٤ : إِذَا دُعِيَ الرَّجُلُ فَجَاءَ هَلْ يَسْتَأْذِنُ جب آدمی کو بلایا جائے اور وہ آئے ، کیا وہ اجازت مانگے ؟ وَقَالَ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي رَافِعِ سعید نے قتادہ سے نقل کیا۔قتادہ نے ابورافع سے، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ ابو رافع نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هُوَ إِذْنُهُ۔نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: اس کا بلانا ہی اس کی اجازت ہے۔: ٦٢٤٦: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۶۲۴۶: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ عمر بن ذر عُمَرُ بْنُ ذَرٍ۔و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ نے ہمیں بتایا اور محمد بن مقاتل نے بھی مجھ سے مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بیان کیا کہ عبد اللہ بن مبارک) نے ہمیں بتایا، (کہا: ) عمر بن ذر نے ہم سے بیان کیا کہ مجاہد نے بْنُ ذَرٍ أَخْبَرَنَا مُجَاهِدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ہمیں بتایا۔مجاہد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اللهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں رسول اللہ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ لا ل نام کے ساتھ اندر گیا تو آپ نے پیالے میں لَبَنًا فِي قَدَحِ فَقَالَ أَبَا هِرِ الْحَقِّ أَهْلَ کچھ دودھ پایا۔آپ نے فرمایا: ابا ہر اہل صفہ کے الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ إِلَيَّ قَالَ فَأَتَيْتُهُمْ پاس جاؤ اور انہیں بلا لاؤ۔حضرت ابو ہریرہ کہتے رَضِيَ