صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 678 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 678

صحیح البخاری جلد ۱۴ YZA ۷۹ - كتاب الاستئذان ہو تو وہ دور ہو جائے مگر اس سے زیادہ بھی نہ کیا جائے تاکہ گھر والوں کا سکون اور آرام خراب نہ ہو اور ان کے لئے تکلیف کا باعث نہ بنیں بلکہ واپس چلے جانے کا حکم ہے۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں: بعض دفعہ بے تکلف دوستوں اور بے تکلف عزیزوں کے گھروں میں لوگ بے دھڑک چلے جاتے ہیں۔یہاں یورپ میں تو اکثر گھروں میں باہر کے دروازوں کو کیونکہ تالا لگا ہوتا ہے یا اس طرح کا لاک (Lock) ہوتا ہے جو خود بخود بند ہو جاتا ہے یا باہر سے کھل نہیں سکتا اس لیے اس طرح جا نہیں سکتے اور جن گھروں میں اس طرح کا نظام نہیں ہے یا اگر یہ نہ ہو اور گھر کھلے ہوں تو شاید ان گھروں میں گھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے لیکن پاکستان، ہندوستان و غیرہ میں بلکہ تمام تیسری دنیا جو کہلاتی ہے ان ملکوں میں یہی طریق ہے اور جب رو کو کہ اس طرح نہیں ہوتا چاہیئے تو پھر بر امناتے ہیں۔یہ حکم عورتوں کے لیے بھی اسی طرح ہے جس طرح یہ مردوں کے لیے ہے۔عورتوں میں بھی وہی قباحتیں پیدا ہو سکتی ہیں جس طرح مردوں میں پیدا ہو سکتی ہیں بلکہ بعض حالات میں عورتوں کے لیے زیادہ قباحتیں پیدا ہو جایا کرتی ہیں۔اس لیے سلام کر کے ، اعلان کر کے ، اجازت لے کر گھر کے جس فرد کے پاس بھی آئی ہوں وہاں جائیں تا کہ تمام گھر والوں کو بھی پتہ ہو کہ فلاں اس وقت ہمارے گھر میں موجود ہے۔پھر پر دہ دار عورت کے لیے اور بھی آسانی پیدا ہو جاتی ہے کہ اس اعلان کی وجہ سے جہاں وہ گھر میں موجود ہو گی وہاں مرد آسانی سے آجا نہیں سکیں گے یا آنے میں احتیاط کریں گے ، پردہ کروا کر آئیں گے۔تو اس طرح اور بھی بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن میں صرف سلام کہنے سے فائدہ ہوتا ہے۔پھر یہ بھی فرمایا کہ گھر میں کوئی نہ ہو تو یہ نہیں کہ گھر یا کمرہ کھلا دیکھ کر وہاں جا کے بیٹھ جاؤ بلکہ اگر گھر میں کوئی نہیں تو تین دفعہ سلام کہو اور جب تین دفعہ سلام کہہ دیا اور کسی نے نہیں سنا تو واپس چلے جاؤ۔اور پھر یہ کہ گھر میں اجازت ملے تو داخل ہونا ہے۔اگر تم نے تین دفعہ سلام کیا اور اجازت نہیں ملی یا گھر میں کوئی نہیں ہے یا گھر والا پسند نہیں کرتا کہ تم اس وقت اس کے گھر آؤ تو واپس چلے