صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 677
صحیح البخاری جلد ۱۴ 922 -29 ۷۹ کتاب الاستئذان عُمَرَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ نے حضرت عمر سے تین بار اندر آنے کی اجازت فَقَالَ مَا مَنَعَكَ قُلْتُ اسْتَأْذَنْتُ مانگی۔انہوں نے مجھے اجازت نہیں دی اس لئے ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ وَقَالَ میں لوٹ آیا۔پھر حضرت عمرؓ نے مجھ سے کہا: تم رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کھڑے کیوں نہیں رہے ؟ میں نے کہا: میں نے اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنَ لَهُ آپ سے تین بار اجازت مانگی اور آپ نے اجازت فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ وَاللَّهِ لَتُقِيمَنَّ عَلَيْهِ نہیں دی اس لئے میں لوٹ گیا اور رسول اللہ صلی بِبَيِّنَةٍ أَمِنْكُمْ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی تین بار اجازت مانگے اسے اجازت نہ دی جائے تو پھر وہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ لوٹ جائے۔حضرت عمرؓ نے یہ سن کر فرمایا: اللہ کی قسم تمہیں اس حدیث پر کوئی ثبوت پیش کرنا ہو گا۔کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے یہ نبی صلی اللہ كَعْبٍ وَاللَّهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخْبَرْتُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ علیہ وسلم سے سنا ؟ حضرت ابی بن کعب نے کہا: اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ۔وَقَالَ ابْنُ کی قسم تمہارے ساتھ شہادت کے لئے وہ جائے الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي گا جو لوگوں میں سب سے چھوٹا ہو گا۔(حضرت يَزِيدُ عَنْ بُسْرٍ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ بِهَذَا ابوسعید کہتے تھے ) میں سب لوگوں سے چھوٹا تھا میں اُٹھ کر ان کے ساتھ گیا۔میں نے حضرت عمرؓ کو بتایا کہ نبی صلی ا ہم نے ایسا فرمایا۔اور ابن مبارک نے کہا: مجھے ابن عیینہ نے بتایا کہ مجھ سے یزید (بن خصیفہ ) نے بیان کیا کہ انہوں نے ٹیسر سے روایت کی کہ میں نے حضرت ابو سعید سے یہ سنا۔أطرافه: ٢٠٦٢، ٧٣٥٣- تشريح : التَّسْلِيمُ وَالاسْتِقَذَانُ ثَلَاقًا: یعنی تین بار سلام کہنا اور تین با اجازت مانگنا۔تین بار اجازت لینے کے لئے سلام کہنا یا فی زمانہ گھنٹی بجانا اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ یہ تسلی ہو جائے کہ گھر والوں نے یا مخاطب نے میری آواز سن لی ہے اور میری آمد کا اسے پتہ چل گیا ہے اور تینوں دفعہ میں کچھ وقفہ بھی کیا جاتا ہے تا کہ گھر والا اپنی مصروفیت سے فارغ ہو کر آسکے یا اسے پہلی اور دوسری دفعہ سننے میں غلطی یا شک کا امکان