صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 677 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 677

صحیح البخاری جلد ۱۴ ५८८ ۷۹- كتاب الاستئذان عُمَرَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ نے حضرت عمرؓ سے تین بار اندر آنے کی اجازت فَقَالَ مَا مَنَعَكَ قُلْتُ اسْتَأْذَنْتُ مانگی۔ انہوں نے مجھے اجازت نہیں دی اس لئے ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ وَقَالَ میں لوٹ آیا۔ پھر حضرت عمرؓ نے مجھ سے کہا: تم رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کھڑے کیوں نہیں رہے؟ میں نے کہا: میں نے اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَّهُ آپ سے تین بار اجازت مانگی اور آپ نے اجازت فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ وَاللَّهِ لَتَقِيمَنَّ عَلَيْهِ نہیں دی اس لئے میں لوٹ گیا اور رسول اللہ صلی بَيِّنَةٍ أَمِنْكُمْ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی تین بار اجازت مانگے اسے اجازت نہ دی جائے تو پھر وہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ کر اللہ كَعْبٍ وَاللَّهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ لوٹ جائے۔ حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا: کی قسم تمہیں اس حدیث پر کوئی ثبوت پیش کرنا ہو الْقَوْمِ فَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقُمْتُ مَعَهُ گا۔ کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے یہ نبی صلی اللہ فَأَخْبَرْتُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ علیہ وسلم سے سنا؟ حضرت ابی بن کعب نے کہا: اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ۔ وَقَالَ ابْنُ کی قسم تمہارے ساتھ رے ساتھ شہادت کے لئے وہ جائے الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي گا جو لوگوں میں سب سے چھوٹا ہو گا۔ (حضرت يَزِيدُ عَنْ بُسْرٍ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ بِهَذَا۔ ابو سعید کہتے تھے) میں سب لوگوں سے چھوٹا تھا أطرافه: ٢٠٦٢، ٧٣٥٣- میں اُٹھ کر ان کے ساتھ گیا۔ میں نے حضرت عمر کو بتایا کہ نبی صلی الہ وسلم نے ایسا فرمایا۔ اور ابن مبارک نے کہا: مجھے ابن عیینہ نے بتایا کہ مجھ سے یزید (بن خصیفہ ) نے بیان کیا کہ انہوں نے بسر سے روایت ر کی کہ میں نے حضرت ابو سعید سے یہ سنا۔ تشريح : التَّسْلِيمُ وَالاسْتِئَذَانُ ثَلَاثًا یعنی تین بار سلام کہنا اور تین بار اجازت مانگنا۔ تین بار اجازت لینے کے لئے سلام کہنا یا فی زمانہ گھنٹی بجانا اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ یہ تسلی ہو جائے کہ گھر والوں نے یا مخاطب نے میری آواز سن لی ہے اور میری آمد کا اسے پتہ چل گیا ہے اور تینوں دفعہ میں کچھ وقفہ بھی کیا جاتا ہے تا کہ گھر والا اپنی مصروفیت سے فارغ ہو کر آسکے یا اسے پہلی اور دوسری دفعہ سننے میں غلطی یا شک کا امکان