صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 676
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۹ - كتاب الاستئذان فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللَّسَانِ الْمَنْطِقُ اس قول سے بڑھ کر لکھ کے مفہوم کے مشابہ اور وَالنَّفْسُ تَتَمَنَّى وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ کوئی قول نہیں دیکھتا جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ يُصَدِّقُ ذَلِكَ كُلَّهُ وَيُكَذِّبُهُ۔وسلم سے نقل کیا کہ اللہ نے ابن آدم کے لئے جو اس کا حصہ زنا سے ہے لکھ دیا ہے جس کو وہ ضرور پالے گا۔آنکھ کا زنا نظر ہے اور زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس بھی آرزو کرتا ہے اور خواہش رکھتا ہے طرفه: ٦٦١٢ - اور شرمگاہ ان سب کو سچا کرتی ہے یا جھٹلاتی ہے۔باب ۱۳: التَّسْلِيمُ وَالِاسْتِدَانُ ثَلَاثًا تین بار سلام کہنا اور تین بار اجازت مانگنا ٦٢٤٤ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا :۶۲۴۴: اسحاق (بن منصور ) نے ہم سے بیان کیا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى کہ عبد الصمد نے ہمیں بتایا کہ عبد اللہ بن مثنیٰ نے حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ ہم سے بیان کیا کہ ثمامہ بن عبد اللہ نے ہم سے اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی بیان کیا۔تمامہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے رَضِيَ ا اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ سَلَّمَ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت ثَلَاثًا وَإِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا۔تھی کہ جب سلام کہتے تو تین بار سلام کہتے اور أطرافه: ٩٤، ٩٥- جب کوئی بات فرماتے تو اس کو تین بار دہراتے۔٦٢٤٥: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۲۲۴۵: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ حُصَيْفَةَ سفيان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ یزید بن خصیفہ نے ہم سے بیان کیا۔یزید نے بسر بن سعید سے، عَنْ يُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بسر نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی۔الْخُدْرِي قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ وہ کہتے تھے: میں انصار کی مجلسوں میں سے ایک مَّجَالِسِ الْأَنْصَارِ إِذْ جَاءَ أَبُو مُوسَى مجلس میں تھا۔اتنے میں حضرت ابو موسی آئے كَأَنَّهُ مَدْعُورٌ فَقَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى جیسے وہ گھبر ائے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا: میں