صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 675
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۷۵ -29 ۷۹۔کتاب الاستئذان وو مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمُ۔الجزو نمبر ۱۸۔یعنے مومنوں کو چاہیئے کہ وہ اپنی آنکھوں اور کانوں اور ستر گاہوں کو نامحرموں سے بچاویں اور ہر یک نادیدنی اور ناشنیدنی اور ناکردنی سے پر ہیز کریں کہ یہ طریقہ ان کی اندرونی پاکی کا موجب ہوگا۔یعنے ان کے دل طرح طرح کے جذبات نفسانیہ سے محفوظ رہیں گے کیونکہ اکثر نفسانی جذبات کو حرکت دینے والے اور قومی بہیمیہ کو فتنہ میں ڈالنے والے یہی اعضاء ہیں۔اب دیکھئے کہ قرآن شریف نے نامحرموں سے بچنے کے لئے کیسی تاکید فرمائی اور کیسے کھول کر بیان کیا کہ ایماندار لوگ اپنی آنکھوں اور کانوں اور ستر گاہوں کو ضبط میں رکھیں اور ناپاکی کے مواضع سے روکتے رہیں۔“ ( براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد اول، حاشیه صفحه ۲۰۹) بَاب ۱۲: زِنَا الْجَوَارِحِ دُونَ الْفَرْجِ شرمگاہ کے علاوہ اور اعضا کا بھی زنا ہوتا ہے ٦٢٤٣: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۶۲۴۳: عبد اللہ بن زبیر ) حمیدی نے ہم سے سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ طَاوُسِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمْ (عبد اللہ ) ابن طاؤس سے، انہوں نے اپنے باپ أَرَ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِنْ قَوْلِ أَبِي ہے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت ابو ہریرہ کے قول سے زیادہ مناسب اور کوئی قول هُرَيْرَةَ۔۔وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ میں لکھ کی تفسیر میں نہیں پاتا۔اور محمود (بن طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ غیلان) نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ عبد الرزاق مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابن طاوس سے، ابن طاؤس نے اپنے باپ سے، وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ ان کے باپ نے حضرت ابن عباس سے روایت حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ کی۔انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابو ہریرہ کے