صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 674
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۷۴ ۷۹ - كتاب الاستئذان قَالَ اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجَرِ کر ایسے ہی یاد رکھی ہے جیسے کہ تمہیں یہ یقین ہے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ کہ تم یہاں ہو۔(حضرت سہل نے ) کہا کہ ایک النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرَى آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں میں ایک يَحُلُّ بِهِ رَأْسَهُ فَقَالَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ سوراخ سے جھانک کر دیکھا اور نبی صلی اللہ علیہ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ إِنَّمَا وَسلم کے پاس پشت خار تھا جس سے آپ اپنے سر کو کھجلا رہے تھے۔آپ نے فرمایا: اگر میں جانتا کہ جُعِلَ الِاسْتِنْدَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ۔أطرافه: ٥٩٢٤، ٦٩٠١- تم دیکھ رہے ہو تو میں ضرور وہی تمہاری آنکھ میں چھو دیتا۔اجازت لینا اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ نظر نہ پڑے۔٦٢٤٢ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ :۶۲۴۲: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ بن ابی بکر سے، أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ عبید اللہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی بَعْضٍ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حجرے میں جھانک کر دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ أَوْ بِمَشَاقِصَ فَكَانَى چینٹے پھل کا ایک تیر یا کہا کچھ تیر لے کر اس کی طرف جانے کے لئے اٹھے۔گویا میں آپ کو اب أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخْتِلُ الرَّجُلَ لِيَطْعُنَهُ۔أطرافه: ٦٨٨٩ ، ٦٩٠٠ - بھی دیکھ رہا ہوں کہ آپ دبے پاؤں اس کی طرف جارہے تھے تاکہ اس کو ماریں۔تشريح : الاسْتِقْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ : اندر آنے کی اجازت مانگنا اس لئے ہے کہ نظر نہ پڑے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وو یہ خدا ہی کا کلام ہے جس نے اپنے کھلے ہوئے اور نہایت واضح بیان سے ہم کو ہمارے ہر یک قول اور فعل اور حرکت اور سکون میں حدود معینہ مشحصہ پر قائم کیا اور ادب انسانیت اور پاک روشی کا طریقہ سکھلایا۔وہی ہے جس نے آنکھ اور کان اور زبان وغیرہ اعضاء کی محافظت کے لئے بکمال تاکید فرمایا: قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا