صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 673 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 673

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۷۳ ۷۹ - كتاب الاستئذان حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”آج کل پر دہ پر حملے کیے جاتے ہیں لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زنداں نہیں بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔جب پر دہ ہو گا، ٹھو کر سے بچیں گے۔ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مردو عورت اکٹھے بلا تامل اور بے محابامل سکیں، سیریں کریں۔کیونکر جذبات نفس سے اضطرار آ ٹھو کر نہ کھائیں گے۔بسا اوقات سنے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مرد اور عورت کے ایک مکان میں تنہا رہنے کو حالانکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں۔یہ گویا تہذیب ہے ، انہی بد نتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ایسے موقع پر یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح غیر محرم مرد د عورت ہر دو جمع ہوں تیسرا اُن میں شیطان ہوتا ہے۔ان نا پاک نتائج پر غور کر وجو یورپ اس ضلع الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے۔بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جارہی ہے۔یہ انہی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔اگر کسی چیز کو خیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو لیکن اگر حفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یاد رکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہو گی۔اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مرد و عورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلی نہیں کی جس کے باعث یورپ نے آئے دن کی خانہ جنگیاں اور خودکشیاں دیکھیں۔بعض شریف عورتوں کا طوائفانہ زندگی بسر کرنا ایک عملی نتیجہ اس اجازت کا ہے جو غیر عورت کو دیکھنے کے لئے دی گئی۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۲۱، ۲۲) باب ۱۱ : الِاسْتِنْدَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ اندر آنے کی اجازت مانگنا اس لئے ہے کہ نظر نہ پڑے ٦٢٤١: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۶۲۴۱ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ الزُّهْرِيُّ حَفِظْتُهُ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔زہری نے کہا کہ كَمَا أَنَّكَ هَا هُنَا عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ یہ حدیث میں نے حضرت سہل بن سعد سے سن