صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 43
صحیح البخاری جلد ۱۴ سم برام ۷۵ - كتاب المرضى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو۔ حضرت عمرؓ نے کہا: نبی الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تکلیف نے نڈھال كِتَابُ اللهِ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ کیا ہوا ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے۔ ہمارے فَاخْتَصَمُوا مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا لئے کتاب اللہ ہی کافی ہے۔ تو جو لوگ گھر میں يَكْتُبْ لَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھے انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور وَسَلَّمَ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ وَمِنْهُمْ جھگڑنے لگے۔ ان میں سے بعض کہتے تھے (قلم مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ فَلَمَّا أَكْثَرُوا دوات کاغذ) قریب کرو تا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللَّغْوَ وَالاخْتِلَافَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دیں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو اور ان میں سے بعض وہ کہتے تھے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ جو حضرت عمرؓ نے کہا۔ جب انہوں نے نبی صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا قَالَ عُبَيْدُ اللهِ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ عليہ وسلم کے پاس علیہ وسلم کے پاس بے مقصد باتیں اور جھگڑا بہت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُٹھو الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ چلے جاؤ ۔ عبید اللہ نے کہا اور حضرت ابن عباس اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ کہا کرتے تھے: بڑی مصیبت ساری مصیبتوں کی يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنْ مصیبت وہ بات تھی جس نے رسول اللہ صلی اللہ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ۔ علیہ وسلم کو ان کے اختلاف اور شور کی وجہ سے اس تحریر کے لکھنے سے روک دیا۔ أطرافه : ١١٤، ٣٠٥٣، ٣١٦٨، ٤٤٣١، ٤٤٣٢، ٧٣٦٦۔ تشريح : قَوْلُ الْمَرِيضِ قُومُوا عَلی: بیمار کا کہنا مجھ سے اُٹھ کر چلے جاؤ۔ حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مریض کے پاس عیادت کرنے کے سلسلے میں شوروغل نہ کرو اور نہ مریض کے پاس زیادہ بیٹھو کیونکہ مریض کے پاس کم بیٹھنا سنت ہے۔ لے تو مریض کے کمرے میں شور شرابہ کرنا، بڑی دیر تک جمگھٹا لگا کر بیٹھ رہنا، یہ آپ صلی علی ایم کے عمل کے خلاف تھا۔ مریض کی ا (مشكوة المصابيح كتاب الجنائز، الباب الاول الفصل الثالث حدیث نمبر ۱۵۸۹)