صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 669
صحیح البخاری جلد ۱۴ ٦٦٩ ۷۹- كتاب الاستئذان بھی ہوں اور برکتیں بھی ہوں یا فرمایا کہ کم از کم اتناہی اظہار کر دو جتنا تمہیں سلام میں پہل کرنے والے نے کیا ہے تو یہ عمل تمہیں جزا پہنچائے گا۔ پس یہ ایک ایسا اصول ہے جو معاشرے میں امن پیدا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے زور سے اور بڑی شدت سے مسلمانوں کو تلقین فرمائی کہ سلام کو رواج دو۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۱۹، فروری ۲۰۱۰، جلد ۸ صفحه ۹۱،۹۰) بَاب ۱۰ : آيَةُ الْحِجَابِ پردے کا حکم ٦٢٣٨ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ۶۲۳۸: يحي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ مجھ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ (عبد اللہ ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ سے بیان کیا۔ یونس نے ابن شہاب سے روایت مَالِكَ أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدَمَ کی۔ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک نے مجھے رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بتایا کہ وہ دس برس کے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ الْمَدِينَةَ فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت دس برس کی۔ یعنی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرًا حَيَاتَهُ وَكُنْتُ جب تک آپ زندہ رہے۔ اور میں سب لوگوں أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ سے پردے کے حکم کو زیادہ جانتا ہوں۔ جب وہ أُنْزِلَ وَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي نازل کیا گیا اور حضرت ابی بن کعب بھی مجھے اس عَنْهُ وَكَانَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ فِي مُبْتَنَى کے متعلق پوچھا کرتے تھے۔ اور سب سے پہلے جو رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یہ حکم نازل ہوا تو اس وقت جب رسول الله صلی اللہ بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشِ أَصْبَحَ النَّبِيُّ عليه وسلم حضرت زینب بنت جحش کو اپنے گھر لائے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا فَدَعَا في صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو ان کے دلہا تھے۔ آپ الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ ثُمَّ خَرَجُوا نے لوگوں کو دعوت دی۔ انہوں نے کھانا کھایا اور وَبَقِيَ مِنْهُمْ رَهْطٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ پھر چلے گئے اور چند آدمی ان میں سے رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالُوا الْمُكْتَ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے رہے اور دیر تک