صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 668
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۹ - كتاب الاستئذان سے جان پہچان ہے یا نہیں، اس کے لئے تمہاری سلامتی کی دعا اس کے تحفظ اور امن کی ضامن ہونی چاہیئے۔اسلامی تعلیم کا یہ پہلو یکطرفہ نہیں بلکہ یہ گارنٹی کارڈ دوسرے فریق کو بھی دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : لا تَقُولُو المَن القَى إِلَيْكُمُ السَّلمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء:۹۵) پس جو تمہیں سلامتی کا پیغام دے تم اس کی طرف سے سے بھی عدم تحفظ کا شکار نہ ہو بلکہ اس پر اعتماد کرو اور اس کی دعوت امن کو قبول کرو۔حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا حُمِيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا (النساء : ۸۷) اور اگر تمہیں کوئی خیر سگالی کا تحفہ پیش کیا جائے تو اس سے بہتر پیش کیا کر دیا وہی لوٹا دو، یقینا اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔اس آیت میں اسلامی احکامات کا ایک ایسا بنیادی حکم دیا گیا ہے جو نہ صرف اپنوں سے اچھے تعلقات کی ضمانت ہے بلکہ غیروں کے ساتھ تعلقات کے لئے اور ان تعلقات میں وسعت پیدا کرنے کے لئے ایک بیمثال نسخہ ہے۔اس آیت میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کے لئے نیک جذبات کے اظہار کی نہ صرف تلقین فرمائی بلکہ فرمایا کہ اگر ملنے پر ایک شخص تمہارے لئے نیک جذبات کا اظہار کرے، تمہیں سلام کہے، ایک ایسی دعا تمہیں دے جو تمہاری دین و دنیا سنوارنے والی ہو تو تمہارا بھی فرض ہے کہ اس سے بڑھ کر اظہار کرو اور فرمایا کہ یہ تمہارا ایک ایسا اخلاقی اور معاشرتی فرض ہے کہ اگر اس کو انجام نہیں دو گے تو خد اتعالیٰ کے سامنے تمہیں اس کا جواب دینا ہو گا۔یہ خوبی صرف اسلام میں ہے کہ ایک دوسرے سے ملنے کے وقت ایسے با مقصد الفاظ کے ساتھ جذبات کا اظہار ہے اور ایک دوسرے سے ملنے پر السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہنے کا حکم ہے کہ تم پر سلامتی ہو یعنی تم ہر قسم کی پریشانیوں اور مشکلات سے محفوظ رہو۔اب یہ دعا ایسی ہے کہ اگر دل کی گہرائی سے دوسرے کو دی جائے تو پیار، محبت اور بھائی چارے کے جذبات ابھرتے ہیں، تمام قسم کی نفرتیں دُور ہوتی ہیں۔اسی طرح جسے سلام کیا جائے اسے حکم ہے کہ تم ان سلامتی کے الفاظ کا ان جذبات کا بہتر رنگ میں جواب دو اور بہتر شکل کیا ہے۔وَعَلَيْكُمُ السّلام جب انسان کہتا ہے تو اس کے لئے وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ بھی کہے کہ تم پر اللہ کی رحمتیں ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " جو تم پر سلام بھیجے اس سے یہ نہ کہا کرو کہ تو مومن نہیں ہے۔