صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 667
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۶۷ ۷۹ - كتاب الاستئذان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ سفيان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بْنِ يَزِيدَ اللَّيْتِي عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ زُہری سے، زہری نے عطاء بن یزید لیٹی سے، اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عطاء نے حضرت ابو ایوب (انصاری) رضی اللہ عنہ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُهْجُرَ سے، حضرت ابو ایوب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: کسی مسلمان کو یہ وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین رات سے زیادہ بِالسَّلَامِ۔وَذَكَرَ سُفْيَانُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُ چھوڑے رکھے۔آپس میں ملیں تو یہ بھی رُکے اور بھی رکے اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔طرفه: ٦٠٧٧- پہلے سلام کہے۔اور سفیان نے ذکر کیا کہ انہوں نے یہ حدیث زہری سے تین بار سنی۔تشریح : السَّلَامُ لِلْمَعْرِفَةِ وَغَيْرِ الْمَعْرِفَةِ: سے پہچانتا ہویانہ پہچانتا ہو اسے سلام کہنا۔عام معاشرتی رواج یہی ہے کہ صرف جان پہچان والوں سے آتے جاتے یا مخاطب ہوتے وقت السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہا جاتا ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد جو عنوان باب اور زیر باب حدیث میں بیان ہوا ہے اس میں اس دائرے کو وسعت دی گئی ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک عالمگیر اور آفاقی مذہب ہے۔بانی اسلام حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ پہلے رسول ہیں جن کو خدا تعالٰی نے یہ حکم دیا: قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا بِالَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ يُحْيِ وَيُمِيتُ فَامِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِي الأرقي الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللهِ وَكَلَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (الاعراف:۱۵۹) اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر آپ نے فرمایا: بعفتُ إِلَى كُلِ أَحمر و اسود کے یعنی مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔آپ گل عالم خدا کی امان کے نیچے اکٹھا کرنے آئے۔اس لئے آپ نے اپنی امت کو یہ تعلیم دی کہ تم یہ نہ دیکھو کہ تمہارا مخاطب یہودی ہے یا عیسائی، ہندو ہے یا سکھ ، دہریہ ہے یا مشرک ، غرض کسی مذہب اور کس قوم سے اس کا تعلق ہے، تمہاری اس ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : تو کہہ دے کہ اے انسانو! یقیناً میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کے قبضے میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے پس ایمان لے آؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر جو اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور اُسی کی پیروی کرو تا کہ تم ہدایت پا جاؤ۔“ (مسلم، كتاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِع الصَّلَاةَ ، باب جعلت لى الأرض مسجدًا وطهورًا)