صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 666 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 666

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۶۶ ۷۹ - كتاب الاستئذان رشتہ داروں اور دوستوں کو سلام کہو جو ان مکانوں میں رہتے ہیں اور یاد رکھو کہ یہ سلام تمہارے منہ کا سلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑا تحفہ ہے یعنی سلام کا لفظ بظاہر تو معمولی معلوم ہوتا ہے لیکن ہے بڑے عظیم الشان نتا ئج پیدا کرنے والا کیونکہ سلام کے لفظ کے پیچھے خدا تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کا وعدہ ہے۔پس جب تم کسی بھائی کو سلام کہتے ہو تو تم نہیں کہتے بلکہ خدا تعالیٰ کی دُعا اُسے پہنچاتے ہو۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے ملک میں لوگ عموماً اپنے گھروں میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم نہیں کہتے گویا اُن کے نزدیک دوسروں کیلئے تو یہ دُعا ہے لیکن اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کیلئے نہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ جب بھی اپنے گھروں میں جائیں السلام علیکم کہا کریں۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ جب بھی ایک شخص دوسرے شخص سے ملے اُسے سلام کرے خواہ اس کو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔“ ( تفسير كبير ، سورة النور، زیر آیت فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّبُوا ، جلد ۲ صفحه ۴۰۴ باب ۹ : السَّلَامُ لِلْمَعْرِفَةِ وَغَيْرِ الْمَعْرِفَةِ جسے پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو اسے سلام کہنا ٦٢٣٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۶۲۳۶: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْتُ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ عَنْ لیث نے ہمیں بتایا۔لیث نے کہا: یزید نے مجھ سے أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ بیان کیا۔یزید نے ابوالخیر سے ، ابوالخیر نے حضرت رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبد الله بن عمرو بن عاص) سے روایت کی کہ أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ قَالَ تُطْعِمُ الطَّعَامَ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَعَلَى اسلام کی کون سی بات بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور جس کو پہچانتے ہو اس کو بھی مَنْ لَّمْ تَعْرِفْ أطرافه: ۱۲، ۲۸۔سلام کہو اور اس کو بھی جسے تم نہ پہچانو۔٦٢٣٧: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۶۲۳۷: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ