صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 665 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 665

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۶۵ -29 ۷۹ - كتاب الاستئذان سلامتی بھیجنے کے موقعے کس طرح پیدا کرنے ہیں۔اور پھر کس طریق سے سلام کرنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ محبت بڑھے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اُس نے السلام علیکم کہا۔آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔جب وہ بیٹھ گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو دس گنا ثواب ملا ہے۔پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا۔حضور نے سلام کا جواب دیا۔جب وہ بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا: اس کو نہیں گنا ثواب ملا ہے۔پھر ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ کہا۔آپ نے انہی الفاظ میں اس کو جواب دیا۔جب وہ بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا: اس شخص کو تیس گنا ثواب ملا ہے۔(خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ،۳، ستمبر ۲۰۰۴ء، جلد ۲ صفحه ۶۳۰ تا ۶۳۲) نیز فرمایا: " سلام کو پھیلانے سے آپس کے محبت کے تعلقات ہوں گے اور یہ محبت کے تعلقات ایک جماعتی قوت پیدا کریں گے اور یہ جماعتی قوت اور مضبوطی ہی ہے جس سے پھر غلبہ کے سامان پیدا ہوں گے۔ورنہ اگر آپس کی پھوٹ رہی ، سلامتی نہ رہی، اس کے پھیلانے کی کوشش نہ کی تو ایک طرف تو آپس کی ایک جماعت کی طاقت جاتی رہے گی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاَطِيْعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ (الانفال:۴۷) یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہا کرو، آپس میں اختلاف نہ کیا کرو۔ایسا کرو گے تو دل چھوڑ بیٹھو گے اور تمہاری طاقت جاتی رہے گی۔اور صبر کرتے رہو، اللہ یقیناً صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔56 خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۲۵ مئی ۷ ۲۰۰، جلد ۵ صفحه ۲۱۸) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ النور کی آیت نمبر ۶۲ کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةٌ مِّنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبْرَكَةً طَيِّبَةً یعنی جب تم گھروں میں داخل ہو تو پہلے اپنے آپ کو سلام کر لیا کر و یعنی اپنے اُن (سنن الترمذی، ابواب الاستئذان، باب ما ذكر في فضل السلام)