صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 664
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۶۴ ۷۹ - كتاب الاستئذان حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: مختلف معاشروں کے ایک دوسرے سے ملتے وقت مختلف حرکات کے ذریعے سے اظہار کے مختلف طریقے ہیں۔کوئی سر جھکا کر اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، کوئی رکوع کی پوزیشن میں جا کے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، کوئی دونوں ہاتھ جوڑ کر اپنے چہرے تک لے جا کر ملنے کی خوشی کا اظہار کرتا ہے۔پھر حال احوال پوچھ کے لوگ مصافحہ بھی کرتے ہیں لیکن اسلام نے جو ہمیں طریق سکھایا ہے، جو مومنین کی جماعت کو ، اسلامی معاشرے کے ہر فرد کو اپنے اندر رائج کرنا چاہیئے وہ ہے کہ سلام کرو، یعنی ایک دوسرے پر سلامتی کی دعا بھیجو اور پھر یہ بھی تفصیل سے بتایا کہ سلامتی کی دعا کس طرح بھیجو اور پھر دوسرا بھی جس کو سلام کیا جائے، اسی طرح کم از کم انہیں الفاظ میں جواب دے بلکہ اگر بہتر الفاظ میں گنجائش ہو جواب دینے کی تو بہتر جواب دے۔اس طرح جب تم ایک دوسرے کو سلام بھیجو گے تو ایک دوسرے کے لئے کیونکہ نیک جذبات سے دعا کر رہے ہو گے اس لئے محبت اور پیار کی فضا بھی تمہارے اندر پیدا ہو گی۔" (خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۳، ستمبر ۲۰۰۴ء، جلد ۲ صفحه ۶۲۵) نیز فرمایا: ”ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہو گے جب تک تم ایمان نہ لاؤ اور تم صاحب ایمان اس وقت تک نہیں ہو سکتے جب تک باہم محبت نہ کرو۔کیا میں تم کو ایک ایسا فعل نہ بتاؤں جو تم بجالا و تو باہم محبت کرنے لگو۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا کہ افشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ یعنی آپس میں سلام کہنے کو رواج دوے صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محبت پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ سلام کو رواج دو اور سلام کو رواج دینے کا یہ مطلب ہے کہ جب منہ سے سلام کہو تو اس وقت تمہارے دل سے بھی تمہارے بھائی کے لئے دعائے خیر نکل رہی ہو۔۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر یہ بھی بتایا کہ ایک دوسرے پر (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان انه لا يدخل الجنة الا المومنون)