صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 663
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۶۳ ۷۹ کتاب الاستئذان بَابِ: إِفْشَاءُ السَّلَامِ السلام علیکم کو رواج دینا ٦٢٣٥: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ۶۳۳۵: قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنِ الشَّيْبَانِي عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شیبانی سے ، شیبانی الشَّعْتَاءِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ نے اشعث بن ابی شعثاء سے ، اشعث نے معاویہ مُقَرْنٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ الله بن سوید بن مقرن سے، معاویہ نے حضرت براء عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ نے کہا: رسول اللہ صلی لی تم نے ہمیں سات باتوں وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَسْمِيتِ الْعَاطِس یعنی بیمار پرسی کرنے، جنازوں کے ساتھ جانے، چھینک مارنے والے کو جواب دینے اور کمزور کی یاوری کرنے اور مظلوم کی مدد کرنے اور عام طور وَنَصْرِ الضَّعِيفِ وَعَوْنِ الْمَظْلُومِ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِم وَنَهَى عَنِ الشَّرْبِ فِي الْفِضَّةِ وَنَهَى وَر سلام کرنے اور قسم دے کر مانگنے والے کی قسم پورا کرنے کا حکم دیا اور آپ نے ہمیں چاندی عَنْ تَخَلُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ رُكُوبِ کے برتن میں پینے، سونے کی انگوٹھی پہننے اور الْمَيَاثِرِ وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ ریشمی لال زین پوشوں پر سوار ہونے اور حریر اور وَالْقَسِيِّ وَالْإِسْتَبْرَقِ۔دیباج اور قسی اور استبرق کے پہننے سے منع فرمایا۔أطرافه: ۱۲۳۹، ۲٤٤٥ ، ۰۱۷۰، ۰۶۳۰، ٥٦٥۰، ٥٨٦٣،٥٨٤٩،٥٨٣٨، ٦٢٢٢، ٦٦٥٤۔یح: إِفْشَاءُ السَّلَام : السلام علیکم کو رواج دینا۔باب نمبر ۴ سے ۸ تک السَّلامُ عَلَيْكُمْ کہنے کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔آج کے مہذب معاشروں میں کسی کو مخاطب کرنے سے پہلے Excuse Me یا Hello وغیرہ کے بے معنی کلمات سے بات شروع کی جاتی ہے یا اس کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اسلام بے معنی اور خشک کلمات کی جگہ السّلامُ عَلَيْكُم کہنے کا حکم دیتا ہے جو دعا کی دعا ہے اور مخاطب کو اپنی طرف سے یہ ضمانت بھی دی جاتی ہے کہ میری طرف سے تم بے فکر رہو، میں تمہارے لئے کوئی خطرہ یا خوف بن کر نہیں آیا بلکہ امن اور سلامتی کا پیغام لے کر آیا ہوں۔اسلامی تعلیم کا یہ ایک حصہ ہی دنیا کے تمام معاشروں کو امن کا گہوارہ بنا سکتا ہے اگر أفشوا السّلام کے مطابق سلام کو عام کیا جائے۔