صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 42
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۵ کتاب المرضى يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَلَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً نے فرمایا: نہیں۔میں نے کہا۔ایک تہائی؟ فرمایا۔تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا ایک تہائی بھی بہت ہے یہ کہ تم اپنے وارثوں کو حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ۔غنی چھوڑ جاؤ یہ بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو محتاج چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور اللہ کی رضا چاہتے ہوئے تم جو بھی خرچ کرو گے تو ضرور تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔أطرافه : ٥٦، ١٢٩٥، ٢٧٤٤،٢٧٤٢، ٣٩٣٦، 4409، 5354، 5659، ٦٣٧٣، ٦٧٣٣- باب ۱۷: قَوْلُ الْمَرِيضِ قُومُوا عَنِّي بیمار کا کہنا مجھ سے اُٹھ کر چلے جاؤ ٥٦٦٩: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۵۲۲۹ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ ح۔حَدَّثَنَا هشام بن یوسف صنعانی) نے ہمیں بتایا۔انہوں عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ نے معمر بن راشد) سے روایت کی۔نیز ہمیں عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے بتایا کہ عبد الرزاق أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں خبر دی، معمر عُبَيْدِ اللهِ بن عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ بْنِ نے زہری سے، زہری نے عبید اللہ بن عبد اللہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جب رسول اللہ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ صلى اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب ہوا اس الْخَطَّابِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وقت گھر میں کچھ آدمی تھے، ان میں حضرت عمر وَسَلَّمَ هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا بن خطاب بھی تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تَضِلُّوا بَعْدَهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ النَّبِيَّ لاؤ میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں لے تا کہ سے، عبید اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تو نہیں لکھتے تھے مگر آپ کے حکم سے جو لکھا جاتا تھا وہ آپ کا ہی کہلاتا تھا۔