صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 660
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۶۰ -29 ۷۹۔کتاب الاستئذان والا خدا ہے۔یہ ایک چھوٹی سی آیت ہے لیکن ایک عظیم پیغام اپنے اندر رکھتی ہے کہ اس سلامتی کے تحفے کو حاصل کرنے کے لئے، اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مورد بننے کے لئے اور اگلے جہان میں بھی اس سے فیض پانے کے لئے تم بھی اپنے اندر، آپس میں، یہ روح پیدا کرو۔آپس کے تعلقات میں یہ روح پیدا کرو۔ایک دوسرے کو سلامتی بھیجو تو یہ تحفہ تمہیں ملتا رہے گا۔پھر اس کا فائدہ یہ بھی ہے کہ آپس کی سلامتی کے تحفے سے جہاں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے جنت میں جگہ پاؤ گے وہاں اس دنیا میں بھی سلامتی کی وجہ سے اپنے روح و دماغ کو بھی امن میں رکھو گے اور تمہارے لئے ، اپنی ذات کے لئے بھی اور اپنے ماحول کے لئے بھی مکمل خوشی پہنچانے والی چیز ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کا بھی یہ ایک عظیم راستہ ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک سلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں رکھا ہے اس لئے تم آپس میں سلام کو پھیلاؤ پس یہ سلام کو پھیلانا، آپس کی محبت پیدا کرنے کا اور معاشرے میں امن قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔اس لئے بے شمار مواقع پر ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپس کے محبت و پیار کو قائم کرنے کے لئے سلام کو رواج دینے کی طرف توجہ دلائی ہے۔پس خدا کا سلام حاصل کرنے کے لئے ہم اپنے معاشرے میں بھی حقیقی سلامتی پھیلانے والے بنیں گے تو تبھی اس کو حاصل کرنے والے ہو سکیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کی سلامتی حاصل کرنے کے لئے، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی راستہ بتایا ہے کہ سلام کو رواج دو۔اس سے آپس میں دلوں کی کدورتیں بھی دور ہوں گی، محبت بھی بڑھے گی، عفو اور درگزر کی عادت بھی پیدا ہو گی اور پھر اس سے معاشرے میں ایک پیار اور محبت کی فضا پیدا ہو جائے گی جو کہ اللہ تعالٰی کے 1 الادب المفرد للامام البخاری ، باب السلام من اسماء الله عز وجل، حدیث نمبر ۱۰۱۹)