صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 659
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۵۹ ۷۹ - كتاب الاستئذان علامہ ابو جعفر محمد کہتے ہیں کہ السّلام وہ ذات ہے جس کی مخلوق اس کے ظلم سے - محفوظ رہے۔پھر ابوالحسن الترمذی کے نزدیک السّلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔اللہ تعالیٰ کو السّلام اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر نقص، عیب اور فنا سے سلامت ہے۔جبکہ بعض دوسرے علماء کے نزدیک وجہ تسمیہ یہ ہے یعنی اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان آفتوں سے سلامت ہے جو دوسروں کو تغیر اور فناوغیرہ کی پہنچتی رہتی ہیں۔نیز یہ کہ وہ ایسا باقی رہنے والا دائمی وجود ہے کہ تمام مخلوقات فنا ہو جائیں گی مگر اس پر فنا نہیں۔وہ ہر ایک چیز پر دائمی قدرت رکھنے والا ہے۔پھر تفسیر روح البیان میں لکھا ہے السلام ہر قسم کی آفت اور نقص سے محفوظ ہے ، تمام تر نقائص سے پاک ہونے کی وجہ سے اور سلامتی عطا کرنے میں بڑھا ہوا ہونے کی وجہ سے اُسے السلام کہا گیا ہے۔اور آنت السّلام حدیث میں آتا ہے۔نماز کے بعد جو دعا پڑھتے ہیں اس میں بھی استعمال ہوا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ تو وہ ذات ہے جو ہر قسم کے عیب سے پاک ہے اور ہر قسم کے نقص اور کمی سے مبرا ہے۔اور حدیث میں جو یہ ہے کہ منك السلام تو اس سے مراد یہ ہے کہ تو وہ ذات ہے جو ایک بے کس شخص کو نا پسندیدہ اور تکلیف دہ امور سے محفوظ کرتی ہے اور دونوں جہانوں کی تکلیفوں اور مصیبتوں سے چھٹکارا دلاتی ہے اور تُو وہ ذات ہے جو ایمان لانے والوں کے گناہوں اور عیوب کی پردہ پوشی کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ قیامت والے دن کی رسوائی سے سلامتی میں ہوں گے۔یہ لکھتے ہیں کہ منك السّلام کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں مومنوں پر سلامتی کا تحفہ عطا کرتا ہے۔جیسا کہ فرمایا: سَلم قولًا مِّن رَّبٍ رَّحِيمٍ (يس: ۵۹) یعنی ان کو سلام کہا جائے گا جو بار بار کرم کرنے والے رب کی طرف سے ان کے لئے پیغام ہو گا۔تو اس لفظ سلام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مکمل حفاظت کا پیغام اور وعدہ دے دیا ہے، اُس خدا کی طرف سے جو رحم کرنے والا خدا ہے اور بار بار رحم کرنے (سنن الترمذی، ابواب الصلاة، باب ما يقول اذا سلم من الصلاة، حديث: ۳۰۰)