صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 656 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 656

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۵۶ -29 ۷۹ کتاب الاستئذان : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوالَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ : یعنی اے وہ جو ایمان لائے ہو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں مت جاؤ۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن کریم کا طریق ہے کہ وہ اصلاح خلق کیلئے ایسی ہدایات دیتا ہے جو بدی کی جڑ کو کاٹنے والی ہوتی ہیں۔چونکہ بعض لوگ بدظنی کی طرف بہت جلد مائل ہو جاتے ہیں اس لئے اُس نے حکم دے دیا کہ اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں بغیر اجازت اور بغیر گھر والوں کو سلام کرنے کے داخل نہ ہوا کرو تا کہ کوئی شخص تم پر چوری یا بد کاری کی بدظنی نہ کرے۔اگر تم اجازت لے لو گے یا سلام کہہ لو گے تو پھر ہر ایک شخص کو پتہ لگ جائیگا کہ گھر کے تمام مردوں اور عورتوں کو تمہارے اندر داخل ہونے کا علم ہے اور اس صورت میں نہ تم پر کوئی چوری کا الزام لگا سکے گا اور نہ بدکاری کا۔اور اگر یہ سوال ہو کہ گھر میں کوئی ہو ہی نہ تو پھر کیا کیا جائے ؟ تو اس کا جواب یہ دیا کہ اس صورت میں گھر میں داخل ہی نہ ہو جب تک کہ تمہیں اجازت نہ دی جائے۔یعنی اس وقت تک انتظار کر وجب تک کہ خاندان کے مردوزن واپس نہ آجائیں تا کہ تم پر چوری کا الزام نہ لگ سکے۔اور گھر کے افراد کے واپس آنے کے بعد اگر اجازت مل گئی تو تم بد کاری کے الزام سے بھی محفوظ ہو جاؤ گے۔پھر سوال ہو سکتا تھا کہ اگر گھر کے افراد تو موجود ہوں مگر وہ اجازت نہ دیں تو پھر کیا کریں؟ اس کا جواب یہ دیا کہ گھر والے اپنے گھر کے مالک ہیں، اگر وہ اجازت نہ دیں تو اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاؤ۔یہ آیات جو تمدنی زندگی سے تعلق رکھنے والے بعض نہایت ہی لطیف احکام پر مشتمل ہیں۔ان میں اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت دی ہے کہ کسی دوسرے کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت حاصل کر لیا کرو۔استیناس کے معنے۔۔۔اس بات کا علم حاصل کرنے کی کوشش کے ہیں کہ آیا گھر والے ملاقات کرنا پسند کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔(بحر محیط) اسی طرح اس کے ایک معنے اجازت حاصل کرنے کے بھی ہیں چنانچہ حضرت ابن عباس سے یہی معنے مروی ہیں اور انہوں نے تستأنسوا کے معنے تَسْتَأْذِنُوا یعنی اجازت مانگنے کے ہی کئے ہیں۔(بحر محیط) اگر اس قرآنی ہدایت پر