صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 657 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 657

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۵۷ ۷۹- كتاب الاستئذان عمل کیا جائے تو دنیا کے بہت سے فسادات اور جھگڑے مٹ جائیں۔ بعض لوگ بڑی سادگی سے کہہ دیا کرتے ہیں کہ یونہی ہماری نظر پڑ گئی تھی اور اس بنا پر وہ دوسرے پر اتہام لگا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعہ اس قسم کی خرابیوں کو بھی دور کر دیا۔“ ( تفسیر کبیر، بر ، سورۃ النور، زیر آیت يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا، جلد ۶ صفحه ۲۹۲، ۲۹۳) بَاب : السَّلَامُ اسْمٌ مِّنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى السلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے وَ إِذَا حُمِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا (اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) اور جب تمہیں کوئی دعا أَوْ رُدُّوهَا (النساء: ۸۷) دی جائے تو تم اس سے اچھی دعا دو یا (کم سے کم) اسی کو لوٹا دو۔ ٦٢٣٠ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ۶۲۳۰: عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ ہم سے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ قَالَ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا بیان کیا۔ اعمش نے کہا کہ شقیق نے مجھے بتایا۔ شقیق إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ۖ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) سے روایت کی۔ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَى اللهِ قَبْلَ وہ کہتے تھے: ہماری عادت تھی کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم یوں کہتے: اللہ عِبَادِهِ السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ السَّلَامُ پر سلامتی ہو پیشتر اس کے کہ اس کے بندوں پر عَلَى مِيكَائِيلَ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ سلامتی ہو، جبریل پر سلامتی ہو اور میکائیل پر وَفُلَانٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ سلامتی ہو اور فلاں اور فلاں پر سلامتی ہو۔ جب نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ ہماری طرف إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ فَإِذَا جَلَسَ متوجہ ہوئے اور فرمایا: اللہ ہی تو سلامتی ہے اس لئے أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلْ التَّحِيَّاتُ جب کوئی تم میں سے نماز میں بیٹھے تو یوں کہے: لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ تمام تحفے اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور تمام عبادتیں