صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 655 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 655

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۵۵ ۷۹ - كتاب الاستئذان يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَأَعْجَبَهُ حُسْنُهَا فَالْتَفَتَ نے مڑ کر جو دیکھا تو فضل اس کو دیکھ رہے تھے۔ تو النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْفَضْلُ آپؐ نے اپناہاتھ پیچھے کر کے فضل کی ٹھوڑی کو پکڑا يَنْظُرُ إِلَيْهَا فَأَخْلَفَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِذَقَنِ اور اس کے منہ کو پھیر دیا تا کہ اسے نہ دیکھے۔ وہ الْفَضْلِ فَعَدَلَ وَجْهَهُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهَا کہنے لگی: یا رسول اللہ ! اللہ کا فرض حج کے متعلق فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللهِ اپنے بندوں پر ایسے وقت مقرر ہوا کہ میرا باپ اتنا فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي بوڑھا تھا کہ اونٹنی پر سیدھا نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ تو کیا شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ میں اُس کی طرف سے حج کروں تو یہ اس کے حج کو عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ ادا کر دے گا ؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ۔ أطرافه: ١٥١٣، 1٨٥٤، 1855، 4399۔ ٦٢٢٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۶۲۲۹ : عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ زَيْدِ ابو عامر نے ہمیں بتایا۔ زہیر زہیر (بن محمد ) نے ہم سے بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ بیان کیا۔ زہیر نے زید بن اسلم سے ، زید نے عطاء أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدری أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رضی اللہ عنہ سے روایت روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ فَقَالُوا نے فرمایا: راستوں پر بیٹھنے سے اپنے آپ کو بچاتے يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ مَّجَالِسِنَا بُدٌ رہو۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمیں تو اپنی مجلسوں سے کوئی چارہ نہیں۔ ہم ان میں بیٹھ کر نَتَحَدَّثُ فِيهَا فَقَالَ إِذْ أَبَيْتُمْ إِلَّا باتیں کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اگر تم نے بیٹھنا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ قَالُوا ہی ہے تو راستے کو اس کا حق دو۔ انہوں نے پوچھا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ غَضُّ يا رسول اللہ ! راستے کا حق کیا ہوتا ہے؟ آپ نے الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْأَمْرُ فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا اور تکلیف دہ چیز کو ہٹانا اور سلام بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ۔ کا جواب دینا اور بھلی بات کا حکم دینا اور بُری بات طرفه: ٢٤٦٥ - سے روکنا۔