صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 41
صحیح البخاری جلد ۱۴ ام ۷۵ - كتاب المرضى قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ سے، حارث نے حضرت (عبدالله) بن مسعود عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں فَقُلْتُ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْدًا شَدِيدًا في صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کو بخار قَالَ أَجَلْ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ تھا۔ میں نے آپ کو ہاتھ لگایا اور کہا: آپ کو سخت بخار ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں اتنا جتنا کہ تم میں قَالَ لَكَ أَجْرَانِ قَالَ نَعَمْ مَا مِنْ سے دو آدمیوں کو بخار ہوتا ہے۔ میں نے کہا: مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ آپ کو دو ثواب ہوں گے۔ آپ نے فرمایا۔ ہاں إِلَّا حَطَّ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ کوئی بھی ایسا مسلمان نہیں کہ جسے کوئی تکلیف الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ۔ پہنچتی ہو بیماری یا اس کے سوا کوئی اور تو ضرور ہی اللہ اس کے گناہوں کو جھاڑ دے گا جیسے درخت اپنے پتوں کو جھاڑ دیتا ہے۔ أطرافه : ٥٦٤٧، ٥٦٤٨، ٥٦٦٠، ٥٦٦١۔ ٥٦٦٨ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۵۶۶۸ : موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عبد ۔ العزیز بن عبد اللہ بن ابی سلمہ نے ہم سے بیان أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عَامِرِ کیا کہ زہری نے ہمیں خبر دی، انہوں نے عامر بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَنَا رَسُولُ بن سعد بن ابی وقاص) سے، عامر نے اپنے اسے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي بِاپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس میری اس بیماری مِنْ وَجَعِ اشْتَدَّ بِي زَمَنَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ میں عیادت کرنے کے لئے آئے کہ جس نے فَقُلْتُ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَى حجۃ الوداع کے زمانے میں مجھے سخت تکلیف دی وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي تھی۔ میں نے کہا: میری بیماری جس حد تک پہنچ أَفَأَتَصَدَّقُ بِخُلُقَيْ مَالِي قَالَ لَا قُلْتُ کی ہے آپ دیکھ ہی رہے ہیں اور میں مالدار فَالشَّطْرُ قَالَ لَا قُلْتُ الثُّلُثُ قَالَ ہوں اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں۔ الثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَعَكَ تو کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ دے دوں؟ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف؟ آپ