صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 652 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 652

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۵۲ ۷۹ - كتاب الاستئذان السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوا السَّلَامُ عَلَيْكَ ذریت کا جواب ہو گا۔آدم نے کہا: السلام وَرَحْمَةُ اللهِ فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللهِ فَكُلُّ عَلَيْكُمْ تو انہوں نے کہا: السّلامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ اللهِ۔تو انہوں نے اس (کے سلام) پر وَرَحمةُ الله فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدُ حَتَّى بڑھایا۔اب جو بھی جنت میں داخل ہو گا وہ آدم ہی کی صورت پر داخل ہو گا۔اس کے بعد اس وقت تک بناوٹ کم ہوتی گئی ہے۔الآن۔طرفه ٣٣٢٦۔ریح : بَاب بَددُ السَّلام: پہلے سلام کہنا۔زیر باب حدیث سے ظاہر ہے کہ آدم کی تخلیق کے بعد پہلا حکم اسے سلام کرنے کا دیا گیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدم کی تخلیق سلامتی اور امن کا پیغام لے کر آئی نہ کہ فتنہ و فساد کا۔آدم نے السّلامُ عَلَيْكُمْ کہا اور جو ابا فرشتوں نے السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ کہا۔اس سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ سلامتی کی طرف ایک قدم اُٹھانے والے کی طرف دو قدم آگے بڑھ کر اس کے ہے۔سلامتی کے پیغام کا جواب دینا چاہیئے۔ایسا کرنے والے فرشتہ صفت ہوں گے اور سلامتی کے پیغام پر انکار اور تکبر کرنے والے شیطان کہلائیں گے۔خَلَقَ اللهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا: یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔اُس کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: امام ابن حجر لکھتے ہیں کہ یہ ایسی مشکل بات ہے جو ابھی تک انہیں حل نہیں ہوئی۔کیونکہ شمود وغیرہ اقوام قدیمہ سے متعلق جو آثار اکتشافات کے ذریعہ معلوم ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ ان کی رہائش گاہیں اونچائی وغیرہ میں حسب معمول ہیں جن سے ان کے قدوقامت کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۴۳) ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب احادیث الانبیاء، باب ۱، جلد 4 صفحہ ۱۷۲) علامہ کرمائی لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کے نزدیک اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فرمانا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سفلينَ (التین: ۶،۵) ایک خیال یہ ہے کہ ہم نے انسان کو نکتہ معراج تک پہنچایا اور انسانیت کا نکتہ معراج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے اور وہی سب سے پہلے پیدا کیا گیا جیسا کہ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ارتقائی حالت میں پیدا کیا۔پھر ہم نے اُسے نچلے درجے کی طرف کوٹنے والوں میں سب سے نیچے کو ٹا دیا۔“ ( الكواكب الدرارى فى شرح صحیح البخاری، جزء ۲۲ صفحه ۷۳)