صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 651 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 651

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۵۱ بسم الله الرحمن الرحيم ٧٩ - كِتَابُ الِاسْتِمُذَانِ ۷۹ کتاب الاستئذان استقدان اذن سے باب استفعال ہے جس کے معنی اجازت لینے کے ہیں۔کتاب الادب کے تسلسل میں اب ان آداب معاشرہ کا ذکر شروع ہو رہا ہے جن کا تعلق نجی زندگی اور پرائیویسی سے ہے جسے ممنوعہ علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔اس کا دائرہ نجی، شخصی اور خاندانی زندگی سے شروع ہو کر دفتری حدود، دوسروں کی ملکیتی اور مخصوص حدود کے اندر کسی غیر کی مداخلت کو اجازت سے مشروط کیا گیا ہے اور ہر انسان کو اس کے دائرہ میں یہ حق دیا گیا ہے کہ اس کی حدود میں اس کی مرضی اور اجازت کے بغیر کوئی مداخلت نہ کرے مگر اس کی مختلف شرطیں اور صورتیں ہو سکتی ہیں جن کا فیصلہ موقع و محل کے مطابق کیا جائے گا۔قرآن کریم نے حدود کے قریب جانے سے منع فرمایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چراگاہ کی مثال دے کر واضح فرمایا کہ دوسرے کی چراگاہ یا کھیت کے قریب اپنے جانور نہ چہ اؤ ورنہ کوئی جانور حد سے تجاوز کر کے تمہارے اور دوسرے کے لئے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ان حدود میں اسلامی پردے کی تعلیم اور نامحرموں کے اختلاط سے منع کرنا اور غض بصر کا حکم بھی بہت اہم ہے۔بَاب بَدْءُ السَّلَامِ پہلے سلام کہنا وَسَلَّمَ قَالَ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ ٦٢٢٧ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا ۲۲۲۷: يحي بن جعفر نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَّعْمَرٍ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔عبد الرزاق نے معمر أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے معمر نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔اُس کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔جب اذْهَبْ فَسَلّمْ عَلَى أُولَئِكَ نَفَرٍ مِّنَ الله ان کو پیدا کر چکا تو فرمایا: جاؤ اُن چند فرشتوں پر الْمَلَائِكَةِ جُلُوسِ فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ جو بیٹھے ہیں سلام کہو اور جو وہ تمہیں جواب دیں فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ فَقَالَ اس کو غور سے سنو۔کیونکہ وہ تمہارا اور تمہاری فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں لفظ اللہ بھی ہے۔(فتح الباری جزءا احاشیہ صفحہ ۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔