صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 650 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 650

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۵۰ ۷۸ - كتاب الأدب اس ضمن میں اس حدیث پر غور کرنے سے یہ بھی حکمت سمجھ میں آتی ہے کہ ”جب جمائی لیتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے “ اور شیطان (یعنی بیماریاں ) دور حاضر کے ایسے انسان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: ”اے بد بخت انسان تو تو ایسا احمق ہے کہ باوجو د دنیاوی ترقیات، مختلف دنیاوی علوم میں مہارت حاصل کرنے کے اور اپنی ذات پر فخر کرنے کے تیرے عمل کتنے مضحکہ خیز ہیں کہ ہنسی آتی ہے اور بظاہر چھوٹے سے چھوٹے انسانی عمل (یعنی جمائی) کو نہ سمجھنے میں میرا ( یعنی شیطان کا شکار ہو جاتا ہے۔" پس ہمارے اطباء، ریسرچ سکالرز اور مربیان کے لئے بھی ایک توجہ طلب بات ہے کہ ”احمد یو! اس زمانہ میں جہاں تم روحانی میدان میں اللہ تعالیٰ سے اپنا رابطہ جوڑو وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی روشنی میں د نیادی میدان کے بھی رہبر بنو۔لیکن شرط یہ ہے کہ پہلے خود ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر غور کرو اور عمل کرو اور پھر ساری دنیا کو اللہ تعالیٰ کا فضل مانگتے ہوئے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک حسین اسلامی معاشرہ کی تشکیل کرو۔“