صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 648 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 648

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۴۸ ۷۸ - كتاب الأدب اخلاقی اقدار ہماری زندگی کا اہم حصہ بن گئی ہیں۔سکول کالج اور یونیورسٹیوں کا قیام، Meetings، سیمینارز، جلسہ اور دیگر تقریبات میں ہمارا با ہمی تعلق آپس میں بہت بڑھ گیا ہے۔یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ social skills اور social etiquettes کا بڑھ کر پاس رکھا جائے۔کسی بھی میٹنگ یا social gathering میں جمائی لینا معیوب سمجھا جاتا ہے۔اس پاس کے لوگوں کا رجحان تبدیل ہو جاتا ہے۔جمائی لینے والا اپنے عمل سے عدم دلچسپی، اکتاہٹ اور لا تعلقی کا اظہار کرتا ہے۔وہ باتیں جو توجہ سے سنے والی ہوتی ہیں ان میں خلل واقع ہوتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود، دیگر احباب اور منتظمین و مقررین کی توجہ بنتی ہے۔جمائی لینا یقیناً ایک نا پسندیدہ فعل ہے اور حسین معاشرہ نہیں کہا جاسکتا۔جماعت احمد یہ جو اس زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کو ساری دنیا میں پیش کرنا چاہتی ہے ان کو ان باتوں کا خصوصیت سے خیال رکھنا چاہیئے۔ہمیں سب جماعتی تقریبات اور خصوصاً حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبات میں ان بنیادی معاشرتی اخلاقی اقدار کا پاس رکھنا چاہیئے۔اور ہمارے پیارے آقا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس عمل کو نا پسندیدہ فرمایا ہے اس سے پر ہیز کرنا چاہیئے۔یہ ایک معاشرتی خرابی ہے اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں تاکید فرمائی کہ (وَأَما الصَّفَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ) ”۔۔۔۔۔۔اور جو جمائی ہے تو وہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔اسے جہاں تک ہو سکے روکے۔“ ان الفاظ میں بھی ایک گہرا پر حکمت راز مضمر ہے۔یہ ایک فطرتی عمل ہے اور تحقیق کئی پہلوؤں سے yawning کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ صرف تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ موجودہ ریسرچ بتاتی ہے کہ جمائی oxygen اور carbon dioxide کے توازن کو قائم کرتی ہے۔یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ جمائی خون کو دماغ بیک پہنچانے میں مدد دیتی ہے اور دماغ کو ٹھنڈا (alert) کرتی ہے۔غور کریں کہ جمائی کا لینا کسی کے بس میں نہیں ہے اور ہر انسان باوجود کوشش کے اس کو روک نہیں سکتا۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ عادت بنائے کہ جہاں تک ممکن ہو اپنے منہ کو بند رکھے، ہاتھ یا بازو کو منہ کے سامنے رکھے، منحوس آواز نہ نکالے اور اپنے جسم کو مختوں کی طرح بد نما انگڑائی نہ دے۔جمائی کا یہ سارا منظر نہایت بد نما اور نا پسندیدہ ہے اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح فرمایا: اور جب جمائی لیتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔" ایک اور معاشرتی خرابی بھی جمائی لینے سے جنم لیتی ہے۔ماہر نفسیات کے مشاہدہ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جمائی contagious ہے۔اور آس پاس کے احباب بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔اور وہ بھی جمائی لینا شروع کر دیتے ہیں۔اس طرح ساری محفل کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔اور مقصد فوت ہو جاتا ہے۔یہ بات ماہر نفسیات کے تجربہ میں آئی ہے کہ جن گھروں میں کتے اور بلیاں گھر کے افراد کو جمائی لیتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ بھی جمائی لینی شروع ہو جاتے ہیں۔یہ نہایت مضحکہ خیز منظر دکھائی دیتا ہے اور لفظ بہ لفظ ر سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تو شیطان اس پر ہنستا ہے پورا اترتا ہے۔